ہوم ڈیلیوری کے لیے صارفین کا 15 دنوں کا طویل انتظار
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،27؍مارچ: میں رسوئی گیس یعنی ایل پی جی (LPG) کی قلت اب سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ انڈین آئل کارپوریشن (Indian Oil Corporation) کے تقریباً 5.1 لاکھ صارفین والے اس شہر میں حالات ایسے ہیں کہ لوگوں کو گیس سلنڈر کی ہوم ڈلیوری کے لیے 10 سے 15 دنوں تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سے عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔راجدھانی میں روزانہ تقریباً 20 ہزار سلنڈروں کی بکنگ ہو رہی ہے، جبکہ سپلائی صرف 15200 سلنڈروں تک محدود ہے۔ اس عدم توازن کی وجہ سے 60 ہزار سے زائد بکنگ التوا کا شکار ہو چکی ہیں۔ صورتحال اتنی خراب ہے کہ لوگ صبح چار بجے سے ہی گیس ایجنسیوں اور گوداموں کے باہر لائنیں لگانے پر مجبور ہیں۔آن لائن بکنگ کا نظام بھی اب مکمل طور پر قابل بھروسہ نہیں رہا۔ کئی صارفین کو بکنگ کے بعد کنفرمیشن تک نہیں مل رہی، جس سے ان کی پریشانی مزید بڑھ رہی ہے۔ کمرشل گیس کی کمی نے ہوٹل اور ریسٹورنٹ کے کاروبار کو بھی جھٹکا دیا ہے۔ چھوٹے ہوٹل بند ہونے لگے ہیں، جبکہ بڑے ریسٹورنٹ میں بھی کچن کا انتظام متاثر ہو رہا ہے۔ کئی جگہوں پر مینیو میں تبدیلی کر کے گیس سے بننے والے پکوانوں کو ہٹا کر کم گیس میں بننے والے متبادل شامل کیے جا رہے ہیں۔گھریلو سطح پر بھی مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ہاسٹلز، میس اور چھوٹے کاروبار اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ گیس کی کمی کی وجہ سے لوگ اب لکڑی، کوئلہ اور دیگر متبادل ایندھنوں کی طرف رجوع کرنے لگے ہیں۔انتظامیہ نے سپلائی بہتر بنانے اور ذخیرہ اندوزی (کالابازاری) پر روک لگانے کی ہدایات دی ہیں۔ تاہم زمینی سطح پر اس کا اثر ابھی تک نظر نہیں آ رہا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک سپلائی نہیں بڑھے گی اور تقسیم کا نظام شفاف نہیں ہوگا، تب تک یہ بحران کم نہیں ہوگا۔ اگر وقت رہتے ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے گئے تو آنے والے دنوں میں رانچی کا یہ ایل پی جی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔



