بچوں کو بنگال کے بڑے سنڈیکیٹ کو فروخت کرنے کی تیاری، 5-5 لاکھ کا سودا طے تھا
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 18 جنوری :۔رانچی کے دھرووا تھانہ علاقے کے موسیباری ملہار کوچا سے 2 جنوری کو لاپتہ ہونے والے معصوم بھائی بہن انش (5 سال) اور انشیکا (4 سال) کی 13 دن بعد 14 جنوری کو رام گڑھ ضلع کے چترپور، راجرپا تھانہ علاقے سے بحفاظت بازیابی کے بعد پولیس نے تفتیش مزید تیز کر دی ہے۔ اس معاملے میں سامنے آنے والی معلومات نے تفتیشی ایجنسیوں کو چونکا دیا ہے۔
بنگال سنڈیکیٹ سے سودا طے
پولیس تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انش اور انشیکا کو بنگال کے ایک بڑے بچے چوری سنڈیکیٹ کے ذریعے فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اغواکار گروہ کے رابطے بہار اور اتر پردیش کے ساتھ ساتھ بنگال تک پھیلے ہوئے ہیں۔ بچوں کو فی کس پانچ پانچ لاکھ روپے میں فروخت کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔
اغواکار جوڑا گرفتار
بچوں کو غبارے اور ٹافی کا لالچ دے کر اغوا کرنے والے میاں بیوی نبھ کھیرور اور سونی کماری عرف سوریہ سونم، ساکن اورنگ آباد، بہار کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کی نشاندہی اور گہری پوچھ گچھ کے بعد گلگلیا گینگ کے منظم نیٹ ورک کا پردہ فاش ہوا ہے۔
گلگلیا گینگ کا طریقہ کار
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ گلگلیا گینگ کا بنیادی کام بچوں کو اغوا کر کے اوپری سطح کے گروہوں تک پہنچانا ہے، جن میں میرزا پور گینگ سے جڑے افراد بھی شامل بتائے جا رہے ہیں۔ نچلی سطح کے ارکان اس کے عوض رقم وصول کرتے ہیں، جبکہ اوپری سطح کے لوگ بچوں کو محفوظ ٹھکانوں پر لے جا کر فروخت کرتے یا دیگر جرائم میں استعمال کرتے ہیں۔
بین ریاستی اور ممکنہ بین الاقوامی نیٹ ورک
پولیس کے مطابق اس گینگ کے تار جھارکھنڈ کے علاوہ بنگال کے کوٹشیلا اور پورولیا، بہار، اتر پردیش اور دیگر ریاستوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ تفتیش میں اس نیٹ ورک کے بین الاقوامی سطح تک پھیلے ہونے کے بھی اشارے مل رہے ہیں، جہاں بچوں کو انسانی اسمگلنگ کے بڑے ریکیٹ میں شامل کیا جاتا ہے۔
چھاپہ ماری اور گرفتاریاں
رانچی کے مختلف علاقوں بشمول سِلی تھانہ علاقہ، موری، کوٹشیلا، لاتیہار، چندوا اور دیگر مقامات پر مسلسل چھاپہ ماری کے بعد گلگلیا گینگ کے 30 سے زائد ارکان کو حراست میں لیا گیا ہے۔ تمام افراد سے رانچی کے مختلف اور خفیہ مقامات پر رکھ کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔



