پانی، تعلیم اور صحت کے نظام پر رہےگی خصوصی توجہ
جدید بھارت نیوز سروس
چترا،18؍اپریل: بھارتی انتظامی سروس (IAS) کے افسر روی آنند نے ہفتہ کے روز چترا ضلع کے 40ویں ڈی سی کے طور پر باضابطہ عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے سبکدوش ہونے والی ڈی سی کریتی شری جی سے چارج حاصل کیا۔ عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے اشارہ دے دیا کہ ان کی انتظامیہ تیز رفتار، جوابدہ اور ترقی پسند ہوگی۔
ترقی کے لیے مربوط کوششیں :ڈی سی کا پہلا پیغام
ڈی سی روی آنند نے کہا کہ ضلع کی مجموعی ترقی، خواتین اور بچوں کی بہبود، تعلیمی نظام کی بہتری، اور ریاستی و مرکزی حکومت کی اسکیموں کے موثر نفاذ پر اولین ترجیح رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اہل استفادہ کنندگان تک اسکیموں کا فائدہ بروقت اور شفاف طریقے سے پہنچانا ان کا بنیادی عزم ہوگا۔
پینے کے پانی کے مسئلہ پر سنجیدگی، 48 گھنٹے میں حل کی ہدایت
ضلع کے کئی حصوں میں پینے کے پانی کے بحران کے پیش نظر، ڈی سی نے تمام متاثرہ علاقوں کا جائزہ لینے کو کہا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ جہاں بھی ہینڈ پمپ یا پانی کی فراہمی سے متعلق مسائل کی نشاندہی ہو، وہاں 48 گھنٹے کے اندر مرمت یا متبادل انتظام کو یقینی بنایا جائے۔ڈی سی نے کہا کہ وہ باقاعدگی سے علاقوں کا دورہ کریں گے تاکہ عام شہریوں کے مسائل کو براہ راست سن کر ان کا فوری حل نکالا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی ہر ہفتے ’جنتا دربار‘منعقد کر کے ترجیحی بنیادوں پر درخواستوں پر کارروائی کی جائے گی۔
صحت کی خدمات میں بہتری کا روڈ میپ
صحت کے ڈھانچے کے چیلنجوں پر بات کرتے ہوئے، ڈی سی نے کہا کہ ضلع میں ڈاکٹروں کی کمی، طبی وسائل اور دیگر انتظامات کا جائزہ لے کر ضروری اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ صحت کی خدمات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
کلکٹریٹ کمپلیکس کا معائنہ ؛ محکمانہ طریقہ کار کا باریک بینی سے جائزہ
عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ڈی سی روی آنند نے کلکٹریٹ کمپلیکس میں واقع اہم شاخوں ریونیو برانچ، سپلائی برانچ، جنرل برانچ سمیت کئی دفاتر کا معائنہ کیا۔ اس دوران انہوں نے کام کرنے کے طریقہ کار کو جاننے کے ساتھ ساتھ افسران کو بہتری، رفتار اور شفافیت کی ہدایات دیں۔اس موقع پر ڈی ڈی سی امریندر کمار سنہا، اے سی اروند کمار، ایس ڈی او محمد ظہور عالم، ڈی ٹی او کم ایس ڈی ایم سمریا مہیشوری پرساد یادو، ڈی ایس او نیتو سنگھ، ڈپٹی الیکشن آفیسر الکا کماری، ڈسٹرکٹ پلاننگ آفیسر منو کمار، ڈی پی آر او شکیل احمد سمیت دیگر افسران اور ملازمین موجود تھے۔
