وزیر صحت نے 76 میڈیکل افسران کو سونپےتقرری نامے
مزید 1250 عہدوں پر جلد ہوگی بحالی :ڈاکٹر عرفان انصاری
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،24؍مارچ: قومی یومِ تپِ دق کے موقع پر نامکم میں واقع آئی پی ایچ آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں، جھارکھنڈ حکومت نے صحت کے شعبے کو بااختیار بنانے کی سمت میں ایک اور تاریخی قدم اٹھایا۔پروگرام کے مہمانِ خصوصی، ریاست کے وزیر برائے صحت، طبی تعلیم اور بہبودِ خاندان ڈاکٹر عرفان انصاری نے 76 میڈیکل افسران کو تقرری نامے فراہم کرتے ہوئے سال 2029 تک جھارکھنڈ کو ٹی بی سے پاک ریاست بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔تقریب میں ایڈیشنل چیف سکریٹری اجے کمار سنگھ، این ایچ ایم کے مشن ڈائریکٹر ششی پرکاش جھا، ڈی آئی سی ڈاکٹر سدھارتھ سانیال، اسٹیٹ ملیریا آفیسر ڈاکٹر کملیش سمیت بڑی تعداد میں ڈاکٹروں، نو منتخب میڈیکل افسران، سہیاؤں اور محکمہ صحت کے عملے نے شرکت کی۔اس موقع پر وزیر ڈاکٹر انصاری نے نہ صرف 76 نو منتخب میڈیکل افسران کو تقرری نامے سونپے، بلکہ ٹی بی کے خاتمے میں نمایاں خدمات انجام دینے والے ٹی بی چیمپئنز، سہیاؤں اور این جی اوز کو توصیفی اسناد سے بھی نوازا۔ ساتھ ہی، ریاست کے تمام اضلاع کیلئے’ٹی بی بیداری رتھ‘ کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا گیا، جو گاؤں گاؤں جا کر لوگوں میں شعور بیدار کرے گا۔اپنے پرجوش خطاب میں ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ ریاستی حکومت صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانے کیلئےمسلسل کوشاں ہے۔انہوںنے بتایا کہ ڈاکٹروں کی کمی کو دور کرنے کیلئے جلد ہی جے پی ایس سی کے ذریعہ 1250 عہدوں پر تقرری کی جائےگی۔ انہوں نے بتایا کہ جھارکھنڈ میں نئے میڈیکل کالج تیزی سے قائم کیے جا رہے ہیں اور برامبے میں میڈیکل یونیورسٹی کے قیام کا عمل آخری مراحل میں ہے، جس کیلئےوائس چانسلر کا تقرر بھی کر دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اپریل تک تمام میڈیکل کالجوں اور صدر ہسپتالوں میں سٹی اسکین اور ایم آر آئی کی سہولت فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، تاکہ مریضوں کو جدید ترین علاج میسر آ سکے۔ٹی بی کے خاتمے کے حوالے سے حکومت کی سنجیدگی پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ “ہمارا مقصد صرف علاج نہیں، بلکہ ٹی بی کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔ 2029 تک جھارکھنڈ کو ٹی بی سے پاک بنانا ہماری ترجیح ہے۔” انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ خون کی کمی کا شکار مریضوں کیلئےٹول فری نمبر کے ذریعے خون کی فراہمی کا انتظام جلد شروع کیا جائے گا۔ڈاکٹر انصاری نے اپنی مدتِ کار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب سے انہوں نے محکمہ کی ذمہ داری سنبھالی ہے، ریاست کے نظامِ صحت میں وسیع اور مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ “آج سرکاری طبی سہولیات پر لوگوں کا بھروسہ بڑھا ہے، جو ہماری مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔”ایڈیشنل چیف سکریٹری اجے کمار سنگھ نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2025 میں ٹی بی کے شعبے میں تقریباً 5.9لاکھ افراد کی جانچ کی گئی تھی، جبکہ سال 2026 میں 12 لاکھ جانچ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو ریاست کی کل آبادی کے تقریباً 3 فیصد کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی تعداد میں اضافے اور جدید مشینوں کی دستیابی سے یہ ہدف آسانی سے حاصل کر لیا جائے گا۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تقرری کا عمل مکمل طور پر شفاف اور آن لائن رہا ہے، جس میں کسی بھی قسم کی سفارش یا مداخلت کی گنجائش نہیں تھی۔ ڈاکٹروں نے اپنی پسند کے مطابق مقامات کا انتخاب کیا ہے، لہٰذا تقرری کے بعد تبادلہ نہیں کیا جائے گا۔پروگرام کے آغاز میں این ایچ ایم کے مشن ڈائریکٹر ششی پرکاش جھا نے معلومات دی کہ سال 1882 میں ٹی بی کے جراثیم کی دریافت ہوئی تھی، اسی لیے 24 مارچ کو قومی یومِ تپِ دق منایا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں 100 روزہ ٹی بی بیداری مہم چلائی جائے گی، جس میں جانچ، تشخیص، علاج اور غذائی الاؤنس کی ادائیگی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔آخر میں، تقریب میں موجود تمام افسران اور طبی عملے نے جھارکھنڈ کو ٹی بی سے پاک بنانے اور صحت کی خدمات کو مزید بہتر بنانے کا اجتماعی عہد کیا۔



