دیہی ترقی اور مزدوروں کی فلاح و بہبود کی ضمانت ہے ‘جی رام جی‘: سنجے سیٹھ
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی ،7؍جنوری: ‘وِکست بھارت جی رام جی‘ (G RAM G) کے حوالے سے وزیرِ مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ نے آج اپنے مرکزی دفتر میں صحافیوں سے بات چیت کی۔ اس گفتگو کے دوران سیٹھ نے ‘جی رام جی‘ کی مخالفت کرنے پر کانگریس کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس کی خصوصیات بھی بیان کیں۔ سنجےسیٹھ نے کہا کہ فرضی جاب کارڈ ہولڈروں کے نام کٹنے کے ڈر سے کانگریس پریشان ہے، جبکہ ‘جی رام جی‘ منریگا کے مقابلے میں مزدوروں کے لیے کئی بہتر سہولیات لے کر آئی ہے۔ اس میں سال بھر میں 125 دن کام کی ضمانت اور زیادہ سے زیادہ 2 ہفتوں میں مزدوری کی ادائیگی نہ ہونے پر معاوضے کی فراہمی کا انتظام ہے۔سنجے سیٹھ نے کہا کہ گرام سوراج سے انتودیا اور وِکست بھارت کی سمت میں ‘جی رام جی‘ ایک تاریخی قدم ہے، جس کے تحت ترقی یافتہ ہندوستان کے دیہی علاقوں میں روزگار کی ضمانت ہوگی۔ پوجیہ مہاتما گاندھی جی نے جس گرام سوراج کا خواب دیکھا تھا، پنڈت دین دیال اپادھیائے جی نے جس انتودیا فلسفے کی بات کی تھی اور وزیرِ اعظم نریندر مودی جی نے جس وِکست بھارت کا تصور پیش کیا ہے؛ ‘جی رام جی‘ ان تمام کے فلسفے اور بصیرت کو یکجا کرنے والامشن ہے۔ ‘جی رام جی‘ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں منصوبوں کی تیاری مقامی سطح پر ہوگی اور ان کا تال میل قومی سطح پر کیا جائے گا۔ اب ہر گرام پنچایت اپنی ضروریات کے مطابق منصوبے تیار کر سکے گی۔انہوں نے کہا کہ اب ‘وِکست بھارت جی رام جی‘ کا مقصد صرف منصوبہ سازی تک محدود نہیں ہے۔ یہ دیہی انتظامیہ کو بااختیار بنانے، منصوبوں کے نفاذ میں جوابدہی اور بدعنوانی کو کم کرنے کی سمت میں بھی اہم ہے۔ ریاست اور پنچایت کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ مقامی اہمیت اور ترقی کی ترجیحات کے مطابق منصوبوں کو نافذ کریں، جس سے دیہی پروجیکٹوں کے معیار، بروقت تکمیل اور ہدف کے حصول کو یقینی بنایا جائے گا۔



