سنگین بیماریوں کا علاج اب ریاست میں ہی ممکن، مریضوں کو باہر جانے کی ضرورت نہیں: ایڈیشنل چیف سکریٹری
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،09؍ جنوری: ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن ایکٹ کے تحت ایڈوائزری کمیٹی کی ایک اہم میٹنگ ایڈیشنل چیف سکریٹری صحت، طبی تعلیم اور خاندانی بہبود محکمہ اجے کمار سنگھ کے دفتر میں ہوئی۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکریٹری ودیانند شرما پنکج، شری شِونارائن سنگھ (سابق پرنسپل ضلع و سیشن جج)، ڈاکٹر سدھارتھ سانیال (ڈائریکٹر اِن چیف، محکمۂ صحت)، ڈاکٹر سنجے کمار، رِمس کے ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر پرکاش، رِمس شعبۂ نیفرولوجی کی سربراہ ڈاکٹر پرگیہ گھوش پنت اور ڈپٹی سیکریٹری دھرو پرساد کے ساتھ این جی اوز کی نمائندہ محترمہ سریتا پانڈے اور پرگتی شنکر بھی موجود تھیں۔ اجلاس میں متفقہ طور پر راجندر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (RIMS) اور راج ہسپتال کو کڈنی ٹرانسپلانٹ کا لائسنس دینے پر اتفاق ہوا۔ ان دونوں ہسپتالوں کو جلد ہی لائسنس جاری کر دیا جائے گا، جس کے بعد ریاست میں گردے کی پیوند کاری کی سہولت دستیاب ہو سکے گی۔ مزید برآں، کمیٹی میں ریاست کے دیگر میڈیکل کالجوں اور نجی اداروں میں جگر (لیور)، دل (ہارٹ) اور گردے جیسے اعضاء کی پیوند کاری کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موضوع پر 15 جنوری کو ریاست کے 10 میڈیکل کالجوں کے ساتھ ایک خصوصی میٹنگ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل چیف سکریٹری نے ‘مکھیہ منتری گمبھیر بیماری اپچار یوجنا ‘ (وزیر اعلیٰ سنگین بیماری علاج اسکیم) کے تحت ریاست سے باہر جانے والے مریضوں کو ریاست میں ہی بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات پر غور و خوض کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نظام وضع کیا جائے جس سے مریضوں کو علاج میں کسی قسم کی دشواری نہ ہو، اس کے لیے اضافی انفراسٹرکچر پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔محکمہ کی جانب سے ‘وزیر اعلیٰ سنگین بیماری علاج اسکیم ‘ کے تحت ایک خصوصی پیکیج کا تعین کیا گیا ہے، جس کے ذریعے سنگین امراض کا علاج ریاست میں ہی ممکن ہو سکے گا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہر حال میں مریضوں کو ٹرانسپلانٹ سمیت تمام ضروری سہولیات ریاست میں ہی فراہم کی جائیں، تاکہ انہیں باہر نہ جانا پڑے۔ فیصلے کے مطابق، ‘وزیر اعلیٰ سنگین بیماری علاج اسکیم ‘ کے تحت اگر کوئی مریض ‘آیوشمان بھارت مکھیہ منتری ابوا سواستھیہ سورکشا یوجنا ‘ کے دائرے میں نہیں آتا ہے، تبھی اسے ریاست سے باہر علاج کی اجازت دی جائے گی۔ وہیں، جو مریض اس اسکیم کے تحت آتے ہیں، ان کا علاج ریاست میں ہی یقینی بنایا جائے گا۔



