جدید بھارت نیوز سروس
دھنباد،19؍اپریل: مفرور مجرم پرنس خان کے قریبی ساتھی صیفی عرف میجر کو دھنباد پولیس نے کولکتہ ایئرپورٹ سے گرفتار کر کے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ صیفی دبئی فرار ہونے کی تیاری میں تھا، لیکن اس سے پہلے ہی پولیس نے اسے دھر لیا۔
دھنباد اور کولکتہ پولیس کی مشترکہ کارروائی
دھنباد پولیس کو اس کی سرگرمیوں کی خفیہ اطلاع پہلے ہی مل گئی تھی۔ جس کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے کولکتہ پولیس سے رابطہ قائم کیا گیا۔ دھنباد پولیس نے سیفی کی مکمل تفصیلات شیئر کیں، جس کی بنیاد پر اسے کولکتہ ایئرپورٹ پر گرفتار کر لیا گیا۔ اس آپریشن میں دونوں ریاستوں کی پولیس کی مشترکہ کارروائی فیصلہ کن ثابت ہوئی۔
دھنباد لانے کا عمل جاری
گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے ایس ایس پی پربھات کمار نے بتایا کہ صیفی سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور اسے جلد ہی دھنباد لانے کا عمل جاری ہے۔ وہیں سندری ایس ڈی پی او آشوتوش کمار ستیام اور ڈی ایس پی لاء اینڈ آرڈر نوشاد عالم خود کولکتہ میں موجود ہیں اور پورے آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔
بھتہ خوری کا کام کرتا تھا صیفی عرف میجر
صیفی عرف میجر، پرنس خان کا انتہائی قریبی اور اس کا ’رائٹ ہینڈ‘ مانا جاتا ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق، وہ تاجروں، ٹھیکیداروں اور بااثر افراد سے بھتہ وصول کرنے کا کام کرتا تھا۔ رقم نہ دینے پر فائرنگ اور بمباری جیسے واقعات انجام دلواتا تھا۔
بھتہ وصولی کے بعد سیفی سوشل میڈیا پر دھمکی آمیز پیغامات بھی وائرل کرتا تھا، جس میں وہ خود کو ’میجر‘ بتاتے ہوئے کھلے عام پرنس خان کے لیے پیسے مانگتا تھا۔ اس کے خلاف کئی سنگین مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔ پولیس حکام کا ماننا ہے کہ صیفی کی گرفتاری سے پرنس خان گینگ کی کمر ٹوٹ سکتی ہے اور بھتہ خوری کے نیٹ ورک پر بڑا اثر پڑے گا۔
