وزیر شلپی نیہا ترکی نے خریف سیزن سے قبل متبادل فصلوں، آبی تحفظ اور مویشی پروری پردیا زور
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی 30؍ اپریل: ریاست میں ممکنہ کم بارش کی صورتحال کے پیشِ نظر حکومت مکمل طور پر محتاط اور سرگرم ہے۔ مختلف موسمی پیش گوئیوں میں مالی سال 27۔2026 کے دوران اوسط بارش میں 30 سے 35 فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر وزیرِ زراعت، حیوانات اور تعاون محترمہ شلپی نیہا ترکی نے محکمانہ اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر کے حکام کو واضح اور سخت ہدایات دی ہیں کہ کسانوں کے مفادات کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ وزیر محترمہ تر کی نے کہا کہ یہ چیلنج صرف کسی ایک علاقے یا ریاست تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات ملک کے کئی حصوں میں دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ خاص طور پر وسطی بھارت میں خشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہونے کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے میں ریاستی حکومت وقت رہتے ٹھوس حکمتِ عملی کے ساتھ میدان میں اتر چکی ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کسانوں کو بروقت معلومات، تکنیکی رہنمائی، گرانٹ اور ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے ہنگامی فنڈ (Contingency Fund) کا موثر انتظام کیا جائے گا۔ وزیر نے واضح کیا کہ کسی بھی صورت میں کسانوں کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جائے گا اور ہر ممکن تعاون کو یقینی بنایا جائے گا۔ محترمہ تر کی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ “ہمارا مقصد صرف بحران کا سامنا کرنا نہیں ہے، بلکہ اسے ایک موقع میں تبدیل کرتے ہوئے کھیتی باڑی کو مزید مضبوط، پائیدار اور منافع بخش بنانا ہے۔” اسی سمت میں 12 مئی کو مجوزہ خریف ورکشاپ میں ضلعی سطح کے ہنگامی منصوبے کا ایک جامع اور قابلِ عمل بلو پرنٹ پیش کیا جائے گا۔
حکومت نے زراعت میں تنوع کو اس حکمتِ عملی کا مرکز بنایا ہے۔ کسانوں کو صرف دھان پر منحصر نہ رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ خاص طور پر اونچی زمین والے علاقوں میں مڑوا (راگی)، اڑد، مونگ اور سویا بین جیسی کم پانی والی فصلوں کو فروغ دیا جائے گا۔ ساتھ ہی زمین کی نوعیت کے مطابق دھان کی مناسب اقسام کے انتخاب پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے، تاکہ کم بارش کی صورت میں بھی پیداوار متاثر نہ ہو۔
باغبانی، چارہ کی پیداوار اور کثیر المقاصد کاشتکاری کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے، تاکہ کسانوں کی آمدنی کے متنوع ذرائع پیدا ہو سکیں۔ خشک سالی کی ممکنہ صورتحال میں مینڈھوں پر سبزیوں کی کاشت، ارہر کی کھیتی اور مخلوط کاشتکاری (انٹر کراپنگ) کی حوصلہ افزائی کر کے خطرے کو کم کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی جائے گی۔ حکومت مویشی پروری کو کسانوں کی آمدنی کا مضبوط ستون بنانے پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ وزیر نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ نامساعد حالات میں بھی اپنے مویشیوں کی حفاظت کریں، کیونکہ مشکل وقت میں یہی آمدنی کا سہارا بنتے ہیں۔ تحفظِ آب کو اس پورے منصوبے کی بنیاد بناتے ہوئے چیک ڈیموں کی تعمیر، آبی ذخائر میں پانی کے تحفظ، ڈرپ اریگیشن اور ملچنگ جیسی جدید تکنیکوں کے وسیع استعمال پر زور دیا گیا ہے۔ حکومت ان تکنیکوں کو اپنانے کے لیے کسانوں کو سبسڈی اور تکنیکی تعاون فراہم کر رہی ہے۔ کرشی ویگیان کیندروں (KVK) اور زرعی یونیورسٹیوں کے ذریعے کسانوں کو بہتر بیج، جدید ٹیکنالوجی اور تربیت فراہم کرنے کے نظام کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔
وزیر محترمہ ترکی نے واضح کیا کہ اگر کسی وجہ سے خریف کی فصل متاثر ہوتی ہے، تو ربیع کے موسم میں دالوں اور ملیٹس (شری انّ) کو فروغ دے کر کسانوں کی آمدنی یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا، “ہم چیلنج سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔ حکومت مکمل تیاری، واضح حکمتِ عملی اور مضبوط عزم کے ساتھ کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہمارا عہد ہے کہ کسی بھی صورتحال میں کسانوں کا نقصان کم سے کم ہو اور ان کی آمدنی محفوظ رہے۔”اس اجلاس میں محکمہ کے سیکرٹری ابوبکر صدیقی، اسپیشل سیکرٹری گوپال جی تیواری، برسا ایگریکلچر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ایس سی دوبے، ڈائریکٹر زراعت بھور سنگھ یادو سمیت محکمہ کے تمام سینئرحکام موجود تھے۔
