تھلیسیمیا متاثرین کی مائیں حقیقی ہیرو ہیں: سبودھ کانت سہائے
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 08؍ مارچ: تھلیسیمیا اور سکل سیل اینیمیا کے مریضوں کی مدد کرنے والی تنظیم’ لہو بولیگا‘ اور جھارکھنڈ تھلیسیمیا وکٹمز ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام رانچی کے بہار کلب میں عالمی یومِ خواتین اور ہولی ملن کی ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب کا مقصد ان جفاکش ماؤں اور خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا تھا جو بیماریوں کے خلاف جنگ میں اپنے بچوں اور معاشرے کے لیے ڈھال بنی ہوئی ہیں۔ پروگرام کی صدارت سول سرجن ڈاکٹر پربھات کمار اور ڈاکٹر انورادھا وتس نے کی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی سابق مرکزی وزیر سبودھ کانت سہائے تھے، جبکہ اعزازی مہمانوں میں ڈاکٹر اما سین گپتا اور راجیش سنہا سنی شامل تھے۔ اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی 43 جدوجہد کرنے والی خواتین کو انگوستر اور یادگاری نشان دے کر نوازا گیا۔ ان میں 21 تھلیسیمیا متاثرین کی مائیں، خون عطیہ کرنے والی خواتین، سماجی کارکن، نرسیں اور معذوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی خواتین شامل ہیں۔ تقریب میں خواتین نے متفقہ طور پر ایک 3 نکاتی قرارداد بھی منظور کی، جس میں حکومتِ جھارکھنڈ سے مطالبہ کیا گیا کہ:
- ریاست میں خون کے عطیہ کی مہم کو منظم کرنے کے لیے باقاعدہ بلڈ ڈونیشن کیلنڈر جاری کیا جائے۔
- کیرالہ کی طرز پر خون کے عطیہ کی تحریک چلائی جائے۔
- تھلیسیمیا کے حوالے سے 9 دسمبر 2025 کو اسمبلی میں کیے گئے حکومتی وعدوں کو فوری طور پر زمین پر نافذ کیا جائے۔
بانی تنظیم ندیم خان نے کہا کہ یہ مائیں حقیقی ہیرو ہیں جو نامساعد حالات میں بھی ہمت نہیں ہارتیں۔ تقریب میں دیوکی دیوی، فریحہ بلقیس، بملا کچھپ اور دیگر کئی شرکاء نے شرکت کی۔



