مسائل حل نہ ہوئے تو 13 اپریل سے گھیراؤ ہوگا: ونے اراؤں
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی ، 08؍ اپریل: بھارتیہ نیشنل اسٹوڈنٹس یونین (این ایس یو آئی) کے بینر تلے آج بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات نے رانچی یونیورسٹی انتظامیہ کو اپنے مختلف تعلیمی اور انتظامی مسائل کے حل کے لیے ایک میمورنڈم پیش کیا۔ اس دوران طلبہ نے یونیورسٹی میں پھیلی بدانتظامی، سیشن میں تاخیر، امتحانات اور نتائج میں دیری، ڈگریوں میں غلطیاں، ڈیجیٹل سہولیات کی کمی اور طلبہ یونین کے انتخابات نہ ہونے جیسے سنگین مسائل کو انتظامیہ کے سامنے مضبوطی سے رکھا۔ اس وفد میں این ایس یو آئی جھارکھنڈ کے ریاستی صدر ونے اراؤں، ریاستی جنرل سکریٹری پون ناگ، رانچی یونیورسٹی کے صدر کیف علی، رانچی میٹروپولیٹن صدر ستیش کیشری، وشوجیت سنگھ، امرتنشو کمار، الیاس انصاری، امداد انصاری، سورج پٹیل، مزمل انصاری (چاند)، عبداللہ رحمان، نشچل سوئے، پون ساہو سمیت کئی طلبہ و طالبات موجود تھے۔ این ایس یو آئی نے یونیورسٹی انتظامیہ کو واضح طور پر آگاہ کیا کہ اگر ان مسائل کا جلد کوئی ٹھوس حل نہ نکالا گیا تو تنظیم 13 اپریل 2026 سے شدید احتجاج کرتے ہوئے رانچی یونیورسٹی کی مرکزی انتظامی عمارت کا گھیراؤ کرے گی۔ریاستی صدر ونے اراؤں نے کہاکہ “رانچی یونیورسٹی میں لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ سیشن میں مسلسل تاخیر، امتحانات اور نتائج کی غیر یقینی صورتحال اور انتظامی لاپرواہی اب ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔ این ایس یو آئی طلبہ کی آواز بن کر کھڑی ہے اور اگر جلد حل نہ نکلا تو ہم سڑکوں پر اتر کر فیصلہ کن لڑائی لڑیں گے۔”
رانچی یونیورسٹی کے صدر کیف علی نے بتایاکہ “یہ صرف ایک میمورنڈم نہیں بلکہ طلبہ کے صبر کی آخری حد کا اشارہ ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو فوری طور پر مستقل وائس چانسلر کی تقرری، سیشن کی باقاعدگی، امتحانی نظام میں بہتری اور ڈیجیٹل سہولیات کی ترقی پر کام کرنا ہوگا۔ ورنہ 13 اپریل سے این ایس یو آئی مرحلہ وار تحریک چلا کر یونیورسٹی کو جگانے کا کام کرے گی۔” رانچی میٹروپولیٹن صدر ستیش کیشری نے کہاکہ “طلبہ کے بنیادی حقوق کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ طلبہ یونین کے انتخابات نہ ہونا، ڈگریوں میں غلطیاں اور شفافیت کی کمی انتظامیہ کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔ این ایس یو آئی اب خاموش نہیں بیٹھے گی اور طلبہ کے مفاد میں ہر سطح پر جدوجہد کرے گی۔” آخر میں این ایس یو آئی نے یونیورسٹی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد مثبت پیش رفت کی جائے، ورنہ تنظیم بڑے پیمانے پر عوامی تحریک کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے پر مجبور ہوگی۔



