بی جے پی اور حکمراں جماعت آمنے سامنے
حکمراں اتحاد کا جوابی وار: شفاف انتخابات صرف بیلٹ پیپر سے ہی ممکن ہیں
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،03؍جنوری: جھارکھنڈ میں طویل انتظار کے بعد اب جلد ہی شہری بلدیاتی انتخابات ہونے کی امید ہے۔ جماعتی بنیادوں پر انتخابات نہ ہونے کے باوجود جھارکھنڈ کی سیاست میں “ای وی ایم بمقابلہ بیلٹ” کی لڑائی تیز ہو گئی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئرلیڈر اور سابق وزیر سی پی سنگھ نے ریاست میں آئندہ بلدیاتی انتخابات ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپر سے کرانے پر بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دراصل اقتدار میں شامل جماعتیں جھارکھنڈ مکتی مورچہ، کانگریس اور آر جے ڈی کی منشا اقتدار کی سرپرستی حاصل غنڈوں کی مدد سے بوتھ پر قبضہ کرنے کی ہے، اس لیے ریاست میں ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپر سے پولنگ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری طرف بی جے پی کے سینئرلیڈر اور جھارکھنڈ اسمبلی کے اسپیکر رہ چکے سی پی سنگھ کے الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کانگریس اور جے ایم ایم کے رہنماؤں نے بی جے پی پر جوابی حملہ کیا ہے۔
بوتھ کی لوٹ نہ ہو، اس لیے ای وی ایم پر زور : سی پی سنگھ
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئرلیڈر اور رانچی کے ایم ایل اے سی پی سنگھ نے کہا کہ بی جے پی کو خدشہ ہے کہ اگر ریاست میں بیلٹ سے الیکشن ہوئے تو دھاندلی ہوگی۔ یہ خوف اس لیے ہے کیونکہ جھارکھنڈ مکتی مورچہ اور کانگریس کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔ یہ لوگ اقتدار کی پشت پناہی حاصل غنڈوں کے زور پر بوتھ قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ سی پی سنگھ نے کہا کہ ان کی منشا اور نیت درست نظر نہیں آتی۔
ہم شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے حامی : کانگریس
بی جے پی کے سینئر لیڈر سی پی سنگھ کے تلخ الزامات کا جواب دیتے ہوئے جھارکھنڈ پردیش کانگریس کے صدر کیشو مہتو کملیش کہتے ہیں کہ بی جے پی لیڈر چاہے جو بھی الزامات لگائیں، حقیقت یہ ہے کہ ہم غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات چاہتے ہیں۔ کیشو مہتو کملیش نے کہا کہ غیر جانبدارانہ اور شفاف الیکشن بیلٹ پیپر (ووٹنگ پیپر) سے ہی ممکن ہے۔ پردیش کانگریس صدر نے کہا کہ بی جے پی احتجاج کرنے کے لیے آزاد ہے۔
ہم اپوزیشن پارٹیاں بھی مرکز سے مطالبہ کرتی رہی ہیں: جے ایم ایم
ریاست میں بیلٹ سے بلدیاتی انتخابات ہونے پر بوتھ لوٹنے کے خدشے والے سی پی سنگھ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے جے ایم ایم کے مرکزی ترجمان منوج پانڈے نے کہا کہ ہم تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہو کر مرکز سے ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپر سے انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اسے مرکز کی بی جے پی حکومت کیوں نہیں مان لیتی؟ جے ایم ایم کے مرکزی ترجمان منوج پانڈے نے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے ای وی ایم کو چھوڑ کر بیلٹ سے انتخابات کرانا شروع کر دیے ہیں، تو پھر یہاں ای وی ایم کی ضد کیوں کی جا رہی ہے؟ جے ایم ایم لیڈر نے بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ای وی ایم کی ساکھ پر خود سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔



