جدید بھارت نیوز سروس
ہزاریباغ،21؍جنوری: ہزاری باغ پولیس نے چوپارن تھانہ علاقہ میں افیم کی غیر قانونی کھیتی کے خلاف ایک بڑی مہم چلائی ہے۔ بدھ کے روز پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ چوپارن تھانہ کے تحت سکدا کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر افیم کی غیر قانونی کاشت کی جا رہی ہے۔ اطلاع کی تصدیق کے بعد، پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) کی ہدایت پر پولیس اور محکمہ جنگلات کی ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دے کر چھاپہ مار مہم شروع کی گئی۔ اس کارروائی کے دوران تقریباً 70 ایکڑ اراضی پر افیم کی فصل پائی گئی، جو کہ بہار کی سرحد سے متصل دریائے پھلگو کے کنارے واقع ہے۔
کاشت کاروں کی شناخت ہوتے ہی ہوگی کارروائی: ایس پی
ہزاری باغ کے ایس پی انجنی انجن نے بتایا کہ کارروائی کے دوران کھیتوں سے افیم کی کاشت میں استعمال ہونے والے 15 ڈلیوری پائپ برآمد کیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق، غیر قانونی طور پر افیم اگانے والے افراد کے نام اور پتے کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ ایس پی نے کہا کہ قصورواروں کی شناخت ہوتے ہی ان کے خلاف این ڈی پی ایس (NDPS) ایکٹ اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
تکنیکی مدد سے افیم کی کھیتی کی شناخت
ہزاری باغ پولیس نے یہ کارروائی انٹیلی جنس اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انجام دی ہے۔ ان دنوں دور دراز کے جنگلاتی علاقوں پر ڈرون کے ذریعے نظر رکھی جا رہی ہے۔ اسی دوران افیم کی کاشت کی تصاویر ڈرون میں قید ہوئیں۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 70 ایکڑ رقبے پر لگی فصل کو تباہ کر دیا۔ اہم بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں پولیس کی جانب سے تقریباً 100 ایکڑ زمین پر لگی افیم کی فصل تلف کی جا چکی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہزاری باغ کے دور دراز دیہی اور جنگلاتی علاقوں کو افیم کی کاشت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
افیون کی غیر قانونی کاشت کے خلاف پولیس کی بڑی کارروائی؛ 70 ایکڑ پر پھیلی فصل تباہ
مقالات ذات صلة



