ہومJharkhandجھارکھنڈ اسمبلی کے بجٹ سیشن میں ایل پی جی قلت

جھارکھنڈ اسمبلی کے بجٹ سیشن میں ایل پی جی قلت

پر ہنگامہ، حکمراں جماعت کا احتجاج

اسمبلی کے باہر مظاہرہ، ایوان کے اندر بھی تکرار؛ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان الزام تراشی

جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 13 مارچ:۔ جھارکھنڈ اسمبلی کے بجٹ سیشن کا جمعہ کو 13واں دن رہا۔ اجلاس شروع ہونے سے پہلے حکمراں جماعت کے اراکین نے اسمبلی کے مرکزی دروازے پر ایل پی جی گیس کی قلت کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ملک میں گھریلو گیس کی قلت کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور عوام کو باقاعدہ گیس فراہم کی جائے۔
ریاستی وزیر کا مرکز پر حملہ
دیہی ترقی و پنچایتی راج کی وزیر دپیکا پانڈے سنگھ نے کہا کہ موجودہ حالات میں نہ صرف گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس کی سپلائی بھی تقریباً پوری طرح بند ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق کئی گھروں میں چولہے تک نہیں جل پا رہے، جبکہ مرکز میں بیٹھی مودی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے غصے اور تکلیف کو آواز دینے کے لیے یہ احتجاج کیا گیا ہے۔
ایوان کے اندر ہنگامہ آرائی
کانگریس کے رکن اسمبلی پردیپ یادو نے کہا کہ جھارکھنڈ میں پیٹرول، ڈیزل اور گیس کی قلت سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایل پی جی کی کمی کی وجہ سے مندروں میں بھوگ اور اسکولوں میں مڈ ڈے میل تک متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم پر امریکہ کے سامنے جھکنے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ اس کا پیغام دہلی تک پہنچنا چاہیے۔
اپوزیشن کا جوابی حملہ
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر بابولال مرانڈی نے حکمراں جماعت کے احتجاج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب ریاست میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے تو حکمراں اراکین غیر ضروری مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے ریاست میں افراتفری کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔
کھاد اور گیس بحران کا خدشہ
ریاست کی وزیر زراعت شلپی نہا ترکی نے کہا کہ روپے کی قدر مسلسل گر رہی ہے اور آنے والے دنوں میں کسانوں کو یوریا اور نیچرل گیس کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناکامی کا الزام کانگریس پر ڈالنا درست نہیں ہے۔
معذور اور بزرگوں کی پنشن بڑھانے کا مطالبہ
کوڈرما سے رکن اسمبلی نیرو یادو نے کہا کہ ریاست میں معذور اور بزرگ شہریوں کو فی الحال ایک ہزار روپے پنشن دی جا رہی ہے، جو ناکافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس رقم کو بڑھا کر 2500 روپے کیا جائے تاکہ کمزور طبقات کو معاشی سہارا مل سکے۔
حکومت کا دھان خریداری پر بیان
اس دوران جمعرات کو وزیر خوراک عرفان انصاری نے اسمبلی میں بتایا کہ حکومت ہر بلاک میں دھان کے ذخیرے کے لیے گودام تعمیر کرے گی اور اس کے لیے ٹینڈر جاری کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال اب تک ہدف کے 50 فیصد سے زیادہ دھان کی خریداری ہو چکی ہے اور 31 مارچ تک مزید خریداری کی جائے گی۔ ضرورت پڑنے پر خریداری کی مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
کسانوں کے مسائل پر سوال
سی پی آئی (ایم ایل ) کے رکن اسمبلی اروپ چٹرجی نے کسانوں کے دھان کی سو فیصد خریداری کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ کئی مقامات پر پیکس مراکز فعال نہیں ہیں، جس کی وجہ سے کسانوں کو اپنی فصل بیچنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہر بلاک میں کم از کم چھ پیکس مراکز قائم کیے جائیں تاکہ کسانوں کو سہولت مل سکے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات