رانچی میں پہلی بار ٹولپ پھولوں کی نمائش
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، یکم فروری :۔رانچی کے مشہور لوک بھون باغ کو کل پیر سے عام ناظرین کے لیے کھول دیا جائے گا، جہاں پہلی بار ہالینڈ کے مشہور ٹولپ پھولوں کی دلکش نمائش دیکھنے کو ملے گی۔ کشمیر کے بعد اب ملک میں رانچی وہ دوسرا شہر بن گیا ہے جہاں ٹولپ پھول عوامی باغ میں کھلتے نظر آئیں گے۔ لوک بھون باغ میں اس مرتبہ پہلی بار ٹولپ کے پھول لگائے گئے ہیں، جن کی فلورنگ خاصی کامیاب رہی ہے۔ باغ کو عام لوگوں کے لیے 2 فروری سے 8 فروری تک کھلا رکھا جائے گا۔ باغ روزانہ صبح 10 بجے سے دوپہر 3 بجے تک کھلا رہے گا، تاہم داخلہ دوپہر ایک بجے تک ہی دیا جائے گا۔ باغ کے انچارج ربول انصاری کے مطابق اس بار کچن گارڈن میں خاص طور پر آئس برگ لیٹش کی کاشت کی گئی ہے، جو سلاد، سینڈوچ اور برگر میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ طویل وقت تک خستہ رہتا ہے، اس میں 96 فیصد پانی موجود ہوتا ہے اور یہ وٹامن اے، کے اور فولک ایسڈ کا بہترین ذریعہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کالی آلو کی کاشت کی گئی تھی، جسے اس کی دوائی خصوصیات اور ذائقے کی وجہ سے کافی پسند کیا گیا۔ اس بار گزشتہ سال کے مقابلے دوگنی مقدار میں کالی آلو لگائے گئے ہیں۔ اس سال دو ڈسمِل رقبے میں کالی آلو کی فصل تیار ہو رہی ہے، ساتھ ہی کالی گاجر بھی اگائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ لوک بھون باغ میں تمام موسمی سبزیاں اور ساگ بھی موجود ہیں۔ ٹولپ کے ساتھ اس مرتبہ کینا للی، مرکورِس اور ریننکولس کے پھول بھی نئے طور پر لگائے گئے ہیں، جو پہلی بار لوک بھون میں دیکھنے کو ملیں گے۔ باغ کے نگران سپروائزر نیلیش رسکر نے بتایا کہ رانچی کی آب و ہوا ٹولپ پھولوں کے لیے نہایت موزوں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دسمبر میں چار رنگوں کے دو سو بڈس لگائے گئے تھے، جن میں سفید، سرخ، گلابی اور سیاہ شامل ہیں۔ تین رنگوں میں پھول کھل چکے ہیں جبکہ سیاہ ٹولپ چند دنوں میں کھلیں گے۔ یہ ہائبرڈ امپورٹڈ بیج ہیں، جنہیں اس بار تجرباتی طور پر لگایا گیا ہے۔ آئندہ نومبر میں بڑی مقدار میں ان کی کاشت کی جائے گی۔ تقریباً 40 دن میں فلورنگ مکمل ہو جاتی ہے۔



