ہیمنت سورین کی گرج: بارش میں بھیگتے عوام کا ’تیر کمان‘کو آشیرواد
جدید بھارت نیوز سروس
کوکراجھار/رانچی،29؍مارچ: آسام اسمبلی انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی درجہ حرارت اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ اور جے ایم ایم کے قدآور لیڈر ہیمنت سورین نے کوکراجھار میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کیا۔ اس جلسے کے ساتھ ہی آسام میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی انتخابی مہم کا باقاعدہ اور پرزور آغاز ہو گیا ہے۔اپنے خطاب میں ہیمنت سورین نے آسام کے آدیواسیوں اور مقامی باشندوں کے حقوق کی بات کی اور بی جے پی سمیت دیگر حریف جماعتوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ جے ایم ایم صرف جھارکھنڈ تک محدود نہیں ہے، بلکہ جہاں بھی قبائلیوں پر ظلم ہوگا، وہاں پارٹی ان کی آواز بنے گی۔ کوکراجھار میں قبائلی ووٹروں کی بڑی تعداد نے اس جلسے میں شرکت کر کے جے ایم ایم کے حق میں اپنی حمایت کا اظہار کیا۔اگرچہ پارٹی کے 21 میں سے 3 امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی تکنیکی وجوہات پر مسترد کر دیے گئے ہیں، لیکن ہیمنت سورین نے واضح کیا کہ باقی 18 نشستوں پر جے ایم ایم پوری قوت کے ساتھ الیکشن لڑے گی۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ہیمنت سورین کی آمد سے آسام کے قبائلی بیلٹ میں ووٹوں کی تقسیم بدل سکتی ہے، جو بڑی جماعتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے۔ آسام اسمبلی انتخابات کے لیے جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین کی مہم نے اس وقت ایک نیا موڑ لے لیا جب کوکراجھار اور گوسائی گاؤں میں شدید بارش کے باوجود ہزاروں لوگ اپنے محبوب لیڈر کو سننے کے لیے ڈٹے رہے۔ اس عوامی جوش و خروش کو دیکھ کر وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے سوشل میڈیا پر ایک انتہائی جذباتی اور سیاسی پیغام جاری کیا ہے۔ہیمنت سورین نے کہا کہ آسام کا وہ طبقہ جو صدیوں سے استحصال کا شکار رہا اور اپنے حقوق سے محروم رکھا گیا، اب وہ مزید خاموش نہیں رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آنے والے انتخابات میں عوام ‘تیر کمان‘کے نشان کو منتخب کر کے اپنی تقدیر بدلیں گے۔ وزیراعلیٰ نے بارش میں بھیگتے ہوئے لوگوں کے جوش کو تبدیلی کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا، “آپ کا مان و سمان (وقار) تیر کمان آپ کے ساتھ ہے، اور میں خود آپ کے ساتھ کھڑا ہوں”۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہیمنت سورین کا یہ براہِ راست رابطہ اور آسام کے مقامی و قبائلی مسائل کو ‘تیر کمان‘ سے جوڑنا جے ایم ایم کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہو سکتا ہے۔
کوکراجھار کے اس جلسے نے یہ پیغام دے دیا ہے کہ جے ایم ایم آسام کے انتخابی دنگل میں محض ایک حصہ دار نہیں بلکہ ایک مضبوط کھلاڑی کے طور پر ابھری ہے۔



