’کلسٹر سسٹم‘، نیٹ پیپر لیک اور ویدانت شریواستو معاملے پر طلبہ تنظیمیں برہم؛ مشترکہ چکہ جام کی اپیل
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 27 مئی:۔ جھارکھنڈ سمیت ملک بھر میں تعلیمی نظام اور مختلف امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کو لے کر طلبہ کا غصہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) اور کئی دیگر طلبہ تنظیموں نے 29 مئی کو پورے جھارکھنڈ میں ریاست گیر “چکہ جام” کا اعلان کیا ہے۔ اس احتجاج کے ذریعے طلبہ تنظیمیں مرکزی اور ریاستی حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کریں گی۔
کلسٹر سسٹم اور پی جی سیٹوں میں کٹوتی کی مخالفت
طلبہ تنظیموں کا سب سے بڑا اعتراض جھارکھنڈ کے محکمہ اعلیٰ و تکنیکی تعلیم کی جانب سے نافذ کیے جانے والے “کلسٹر سسٹم” پر ہے۔ اس نظام کے تحت چار سے پانچ کالجوں کو ملا کر ایک یونیورسٹی کا ڈھانچہ تیار کیا جائے گا اور ہر کالج میں صرف ایک ہی فیکلٹی یا کورس کی پڑھائی ہوگی۔ طلبہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس سے غریب، دیہی اور خاص طور پر طالبات کو شدید نقصان پہنچے گا۔ اگر کسی ویمنز کالج میں صرف ایک مضمون پڑھایا جائے گا، تو دور دراز سے آنے والی طالبات کو دوسرے مضامین کے لیے طویل فاصلہ طے کرنا پڑے گا، جس سے پڑھائی چھوڑنے (ڈراپ آؤٹ) کی شرح بڑھ جائے گی۔ مزید برآں، پی جی (پوسٹ گریجویٹ) کی پڑھائی کو انگبھوت کالجوں سے ہٹا کر صرف یونیورسٹی کیمپس تک محدود کرنے کی تیاری ہے، جس سے غریب طلبہ اعلیٰ تعلیم سے محروم ہو سکتے ہیں۔
نیٹ امتحان میں دھاندلی اور مرکزی وزیر تعلیم سے استعفیٰ کا مطالبہ
تحریک کا دوسرا بڑا ایجنڈا نیٹ (NEET) امتحان میں مبینہ پیپر لیک اور امتحانی نظام کی خرابیاں ہیں۔ طلبہ تنظیموں نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس دھاندلی نے لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔ طلبہ رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ امتحانی تناؤ اور بدنظمی کی وجہ سے کئی طلبہ نے خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھایا۔ انہوں نے اس پورے معاملے کا ذمہ دار مرکزی حکومت کو ٹھہراتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔اس احتجاج میں سی بی ایس ای سے جڑے ویدانت شریواستو کے معاملے کو بھی نمایاں طور پر اٹھایا جا رہا ہے۔ تنظیموں کے مطابق، رزلٹ سے غیر مطمئن طالب علم نے جب اپنی جوابی کاپی (انسر شیٹ) منگوائی تو اسے کسی دوسرے طالب علم کی کاپی دکھا دی گئی۔ طلبہ تنظیمیں اسے تعلیمی نظام میں سنگین لاپرواہی اور شفافیت کی کمی کی ایک بڑی مثال قرار دے رہی ہیں۔ آئیسا کے ساتھ انقلابی نوجوان سبھا (RYA) اور دیگر تنظیمیں بھی اس تحریک میں شامل ہیں۔ 29 مئی کو ریاست کے مختلف اضلاع میں صبح 8 بجے سے 10 بجے تک اور شام 4 بجے سے 6 بجے تک چکہ جام کیا جائے گا۔ طلبہ تنظیموں نے اسے تعلیم کے تجارتی پن اور نجکاری کے خلاف عوامی تحریک قرار دیتے ہوئے والدین، دکانداروں، ٹرانسپورٹرز اور عام عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4596462