گورنر سنتوش گنگوار کا سخت فیصلہ؛ تین سال کی تعیناتیوں کا ریکارڈ طلب
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 27 اپریل: جھارکھنڈ کے تعلیمی نظام میں شفافیت لانے کے لیے گورنر و چانسلر سنتوش کمار گنگوار نے ایک بڑا فیصلہ لیتے ہوئے ریاست کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں میں تیسرے اور چوتھے درجے کی کنٹریکٹ (معاہدہ) پر مبنی تقرریوں پر فوری پابندی لگا دی ہے۔ گورنر کے اس حکم کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اسے یونیورسٹیوں میں جوابدہی طے کرنے اور بے ضابطگیوں کو روکنے کی سمت میں ایک سخت ترین قدم سمجھا جا رہا ہے۔
تعیناتیوں کیلئے نئی گائیڈ
لائنز اور ریکارڈ کی طلبی
گورنر ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی عہدے پر تقرری بہت ضروری ہو، تو صرف ریاستی حکومت کی ایجنسی ‘جیپ آئی ٹی ‘ (JAP-IT) کے ذریعے ہی خدمات لی جا سکیں گی۔ اس کے علاوہ گورنر نے پچھلے تین سالوں کے دوران کی گئی تمام کنٹریکٹ تقرریوں کی مکمل تفصیلات سات دنوں کے اندر ‘لوک بھون ‘ کو فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ اقدام یونیورسٹیوں اور کالجوں میں کنٹریکٹ تعیناتیوں میں مسلسل ملنے والی بے ضابطگیوں کی شکایات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
غیر قانونی عہدوں کا خاتمہ اور انتظامی تبدیلی
گورنر نے وائس چانسلرز کے خصوصی افسر (او ایس ڈی ٹو وی سی) کے عہدے پر کی گئی تقرریوں کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ یہ عہدہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے، اس لیے اس پر کام کرنے والے تمام اہلکاروں کی تقرری فوری طور پر ختم سمجھی جائے گی اور انہیں ان کے اصل عہدوں پر واپس بھیج دیا جائے گا۔ اس فیصلے سے کئی یونیورسٹیوں کا انتظامی ڈھانچہ براہ راست متاثر ہوا ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط اور بجٹ سے متعلق ہدایات
مالی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے گورنر نے حکم دیا ہے کہ یونیورسٹیاں اب کوئی بھی رقم کرنٹ اکاؤنٹ میں نہیں رکھیں گی، بلکہ اسے سیونگ اکاؤنٹ یا فکسڈ ڈپازٹ میں جمع کرایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ سود حاصل ہو سکے۔ مزید برآں، مالی سال 27-2026 کا بجٹ سینٹ اور سنڈیکیٹ سے منظور کرا کر لوک بھون بھیجنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اساتذہ اور ملازمین کی جانب سے لیے گئے ایڈوانس کی ادائیگیوں کو 30 اپریل تک نمٹانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
اعزازی ڈگریوں کیلئے نئی پالیسی
تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے اعزازی ڈگریوں (جیسے ڈی لٹ یا ڈی ایس سی) کے حوالے سے بھی نیا ضابطہ نافذ کیا گیا ہے۔ اب کوئی بھی یونیورسٹی لوک بھون کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی کو اعزازی ڈگری تفویض نہیں کر سکے گی۔ بغیر اجازت دی گئی ایسی تمام ڈگریاں غیر قانونی تسلیم کی جائیں گی۔ ان فیصلوں کا مقصد یونیورسٹیوں میں نظم و ضبط اور شفافیت کو فروغ دینا ہے۔
