پیار سے مانیں گے تو ٹھیک ورنہ سخت طریقہ اپنائیں گے: یوگی کا مسلمانوں کوانتباہ
لکھنؤ،18؍مئی(ایجنسی):اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ سڑکوں پر نماز کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ لوگ عبادت گاہوں یا شفٹ میں نماز ادا کریں، ورنہ حکومت سخت کارروائی کرے گی۔اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سڑکوں پر نماز ادا کرنے کے معاملے پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں عوامی سڑکوں پر نماز نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ لوگ اگر بات چیت اور قانون سے مان جائیں تو بہتر ہے، ورنہ حکومت سخت طریقہ اپنانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔لکھنؤ میں ایک پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ان سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ کیا اتر پردیش میں اب سڑکوں پر نماز نہیں ہوتی؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ریاست میں سڑکوں پر نماز قطعی طور پر نہیں ہونے دی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑکیں آمد و رفت کے لیے ہوتی ہیں، انہیں کسی بھی صورت میں بند یا متاثر نہیں ہونے دیا جا سکتا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر کسی مقام پر نمازیوں کی تعداد زیادہ ہو تو لوگ شفٹ میں نماز ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عبادت سے نہیں روک رہی لیکن قانون اور نظم و ضبط سب کے لیے یکساں ہے۔ ان کے مطابق ہر شخص کو اپنے مذہبی مقام یا مناسب جگہ پر عبادت کرنی چاہیے، نہ کہ عوامی سڑکوں پر۔یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ حکومت کسی بھی صورت میں سڑکوں پر افراتفری یا رکاوٹ پیدا نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ عام شہری، مریض، ملازمین، مزدور اور تاجر سڑکوں سے گزرتے ہیں، اس لیے کسی کو بھی راستہ روکنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے آبادی کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر لوگوں کے پاس مناسب جگہ نہیں ہے تو انہیں تعداد کو قابو میں رکھنے کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نظام کے ساتھ چلنے کے لیے قوانین اور ضابطوں پر عمل ضروری ہے۔عیدالاضحیٰ سے قبل یوگی آدتیہ ناتھ کا یہ بیان خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس سال 28 مئی کو مسلمان عیدالاضحیٰ منانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ کئی شہروں میں مساجد اور عیدگاہوں میں جگہ کم پڑنے کے باعث عیدین یا بعض اوقات نماز جمعہ کے دوران کچھ لوگ مسجدوں کے باہر یا سڑکوں پر بھی نماز ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم، موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اس معاملہ میں انتہائی سخت رویہ اپنایا جاتا ہے اور اب باقاعدہ طور پر پولیس گشت کر کے یہ یقینی بناتی ہے کہ کوئی بھی شخص سڑک پر نماز ادا نہ کرے۔یہ بھی پڑھیں : سنبھل: سرکاری زمین پر موجود عید گاہ اور امام باڑہ پر چلا بلڈوزر، کارروائی کے دوران پورا علاقہ پولیس چھاؤنی میں تبدیلیوگی آدتیہ ناتھ کے حالیہ بیان کو بھی اس بات کا اشارہ مانا جا رہا ہے کہ اتر پردیش حکومت عوامی سڑکوں پر نماز ادا کرنے کے معاملہ میں مزید سخت اقدامات لے سکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت پہلے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’پیار سے مانیں گے تو ٹھیک، نہیں مانیں گے تو دوسرا طریقہ اپنائیں گے۔‘‘یوگی آدتیہ ناتھ نے بریلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بعض لوگوں نے طاقت آزمانے کی کوشش کی تھی لیکن حکومت نے اپنی طاقت بھی دکھا دی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں قانون کی حکمرانی ہر حال میں برقرار رکھی جائے گی اور تمام قوانین سب پر یکساں طور پر نافذ ہوں گے۔
