جھارکھنڈ کے نظامِ صحت میں شامل ہوگی AI ٹیکنالوجی؛ ای-سنجیونی ورکشاپ میں نئی گائیڈ لائنس جاری
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،8؍اپریل : رانچی کے نامکم میں واقع پبلک ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ میں بدھ کو ای-سنجیونی ٹیلی میڈیسن کے موضوع پر ریاست سطحی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں جھارکھنڈ کے وزیر صحت ڈاکٹر عرفان انصاری نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ ریاستی حکومت جلد ہی تمام پنچایتوں میں ’ہیلتھ کاٹیج‘ قائم کرنے جا رہی ہے، جہاں علاج کے ساتھ ساتھ صحت کے موافق ماحول بھی فراہم کیا جائے گا۔ورکشاپ میں ریاست بھر کے سول سرجن، ای-سنجیونی ٹیلی مانس کے نمائندے اور کئی صحت کے اہلکار موجود تھے۔ اس دوران وزیر صحت، راج محل کے رکن پارلیمنٹ وجے ہانسدا اور نیشنل ہیلتھ مشن کے مہم ڈائریکٹر ششی پرکاش جھا نے ای-سنجیونی ٹیلی میڈیسن کی پروٹوکول گائیڈ لائنز کی نقاب کشائی کی۔ ساتھ ہی بہترین کارکردگی دکھانے والے 13 ڈاکٹروں اور 12 کمیونٹی ہیلتھ آفیسرز (CHO) کو اعزاز سے نوازا گیا۔وزیر صحت ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ کووڈ جیسے مشکل وقت میں جب لوگ ایک دوسرے سے دور ہو رہے تھے، اس وقت ای-سنجیونی ٹیلی میڈیسن نے لوگوں کو جوڑا۔ انہوں نے ڈاکٹروں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مریضوں کے ساتھ ان کا رویہ سہل، سادہ اور ہمدردانہ ہونا چاہیے تاکہ مریض اپنی پریشانی کھل کر بیان کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ کے نظام صحت میں جدید ترین اور اے آئی (AI) پر مبنی ٹیکنالوجی کو شامل کر کے وسیع پیمانے پر بہتری لائی جائے گی۔ اس کے لیے تمام ہیلتھ ورکرز کے تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سول سرجنوں سے نڈر ہو کر کام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے مریضوں اور عوامی نمائندوں کے تئیں حساس رہنے کی ہدایت دی۔وزیر صحت نے کہا کہ ایک طبیب کی حیثیت سے ہم سب بغیر کسی امتیاز کے خدمت کرنے کا عہد لیتے ہیں۔ طب خدمت کا شعبہ ہے جہاں انسانیت سب سے مقدم ہونی چاہیے۔ریاست میں صحت کی خدمات کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے جلد ہی ایک مضبوط مانیٹرنگ سیل قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، وہیں لاپرواہی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی بھی ہوگی۔وزیر صحت نے بتایا کہ ریاست میں خون کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے نئی پالیسی نافذ کی جائے گی۔ اس کے تحت ایجنسی کے ذریعے خون فراہم کیا جائے گا اور عوام کی سہولت کے لیے ٹول فری نمبر بھی جاری کیا جائے گا۔ریاست میں ’ابوا میڈیکل اسٹور‘ کے ذریعے لوگوں کو ادویات فراہم کی جائیں گی۔ یہاں ادویات کے استعمال، مضر اثرات اور لینے کے طریقے کے بارے میں سادہ زبان میں معلومات دی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں 747 ابوا میڈیکل اسٹور کھولنے کا عمل جاری ہے۔وزیر صحت نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی صحت کے ادارے کا کبھی بھی اچانک معائنہ کر سکتے ہیں۔ اس کا مقصد کسی کو خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ نظام میں بہتری لانا ہے۔نیشنل ہیلتھ مشن کے مہم ڈائریکٹر ششی پرکاش جھا نے کہا کہ ای-سنجیونی ٹیلی میڈیسن وہم اور غلط علاج سے بچانے میں انتہائی مؤثر ہے۔ انہوں نے بہتر کام کرنے والے ڈاکٹروں سے دیگر معالجین کو ترغیب لینے کی اپیل کی تاکہ دور دراز علاقوں تک معیاری طبی خدمات پہنچائی جا سکیں۔پر وگرام میں سی اے پی ایچ سی (CAPHC) کے ریاستی نوڈل افسر ڈاکٹر مکیش مشرا نے موضوع کا تعارف کرایا اور ماہرین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔



