’نئی زندگی دیتے ہوئے کسی ماں کی جان نہ جائے‘
شرح امواتِ زچگی کو صفر پر لانے کا حکومتی عزم
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،11؍اپریل: آج رانچی کے چانکیہ BNR میں ‘قومی محفوظ زچگی کے دن‘(National Safe Motherhood Day) کے موقع پر ایک باوقار تقریب منعقد کی گئی۔ حکومت ہند کی جانب سے سال 2003 میں کستوربا گاندھی کے یومِ پیدائش کو قومی محفوظ زچگی کے دن کے طور پر منسوب کیے جانے کے بعد سے ہر سال 11 اپریل کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ تقریب کی صدارت جھارکھنڈ کے وزیر صحت ڈاکٹر عرفان انصاری نے کی۔
‘‘شرح امواتِ زچگی کو صفر کے قریب لانا ہمارا عزم‘‘
اپنے خطاب میں وزیر صحت ڈاکٹر عرفان انصاری نے کہا کہ زچہ و بچہ کی صحت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ‘‘کسی بھی خاتون کو نئی زندگی دیتے وقت اپنی زندگی نہیں کھونی چاہیے‘‘—اور شرح امواتِ زچگی (MMR) کو صفر کے قریب لانا ہی حکومت کا اصل ہدف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں خواتین کے احترام، تحفظ اور بااختیار بنانے کے لیے متعدد اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں، جن میں صحت کی خدمات تک رسائی، مالی تعاون اور عوامی بیداری پر خصوصی زور دیا جا رہا ہے۔
کشور لڑکیوں کی تعلیم اور اینیمیا کے کنٹرول پر توجہ
وزیر موصوف نے بتایا کہ نوجوان لڑکیوں کی تعلیم، 18 سال کے بعد شادی کو یقینی بنانے اور اینیمیا (خون کی کمی) کے کنٹرول جیسے پہلوؤں پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ صحت مند مامتا اور صحت مند بچے کی پیدائش کو فروغ مل سکے۔ کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ جیسی کوششوں کے ذریعے لڑکیوں کو تعلیم یافتہ اور خود مختار بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے ‘سہیا‘کارکنوں اور نرسوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ وہ مشکل حالات میں بھی 24×7 خدمات دے کر اسپتالوں میں زچگی کے عمل کو فروغ دے رہی ہیں۔
ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ قومی مشن برائے صحت (NHM) کے تحت غذائی قلت، سکل سیل اینیمیا، تھیلیسیمیا اور اینیمیا جیسی بیماریوں کی روک تھام کے لیے ریاست بھر میں وسیع اسکریننگ مہم چلائی جا رہی ہے۔ یونیسیف (UNICEF) کے تعاون سے بیداری، گاؤں کی سطح تک رسائی اور رویوں میں تبدیلی پر کام ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ ‘ممتا واہن‘جیسی خدمات کے ذریعے حاملہ خواتین کو بروقت اسپتال پہنچایا جا رہا ہے اور سہیا کارکنوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اعزازیہ میں اضافہ کر کے ان کے کردار کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔
‘‘تیسرے سے پہلے مقام تک پہنچنا ہمارا ہدف‘‘
وزیر صحت نے کہا کہ موجودہ وقت میں جھارکھنڈ صحت کی خدمات میں ملک بھر میں تیسرے نمبر پر ہے، لیکن حکومت کا ہدف اسے پہلے نمبر پر پہنچانا ہے۔ ڈیجیٹل بااختیار بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ایک ماہ کے اندر 42000 سہیا کارکنوں کو ‘ٹیب‘(Tabs) فراہم کیے جائیں گے، تاکہ وہ تکنیکی طور پر لیس ہو کر گاؤں گاؤں میں بہتر طبی خدمات فراہم کر سکیں۔
صحت کے اشاریے ہی حقیقی ترقی کا پیمانہ
قومی مشن برائے صحت کے مہم ڈائریکٹر ششی پرکاش جھا نے کہا کہ کسی بھی ریاست کی حقیقی ترقی کا اندازہ اس کے بنیادی ڈھانچے سے نہیں، بلکہ شرح امواتِ زچگی (MMR) اور شرح امواتِ اطفال (IMR) جیسے صحت کے اشاریوں سے لگایا جاتا ہے۔ جھارکھنڈ کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، لیکن عالمی معیار تک پہنچنے کے لیے مسلسل کوششیں ضروری ہیں۔
ماہرین کے تکنیکی سیشن اور یونیسیف کا تبصرہ
اسٹیٹ نوڈل آفیسر ڈاکٹر پشپا نے بتایا کہ ریاست میں ہائی رسک حمل (HRP) کی بروقت شناخت اور انتظام پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ شرح اموات کو سنگل ڈیجٹ تک لایا جا سکے۔ یونیسیف کی سی ایف او انچارج پارول شرما نے جھارکھنڈ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریاست زچہ و بچہ کی صحت کے میدان میں ایک ابھرتا ہوا ماڈل بن رہی ہے۔
ثقافتی پروگرام اور بیداری
تقریب میں کیڈیا برادران کی موسیقی اور پنڈت متھلیش جھا (تبلہ) کی سنگت نے ماحول کو خوشگوار بنا دیا۔ اس موقع پر وزیر صحت نے ہائی رسک حمل کی شناخت اور دیکھ بھال سے متعلق ایک خصوصی ‘ماڈیول‘کا بھی اجرا کیا۔ پروگرام کا بنیادی مقصد حاملہ خواتین کی صحت، غذائیت اور تحفظ کے تئیں بیداری پیدا کرنا رہا۔



