انٹرن ڈاکٹروں کے لیے 53.2کروڑ روپے کے اسٹائپینڈ کی منظوری
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،18؍اپریل: وزیر صحت ڈاکٹر عرفان انصاری خود ایک تجربہ کار طبیب ہیں، اور ان کے اسی تجربے کا براہ راست فائدہ آج پوری ریاست کو مل رہا ہے۔ ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے وہ نہ صرف بیماریوں کو سمجھتے ہیں، بلکہ مریضوں، طلبہ اور ڈاکٹروں کے جذبات کو بھی گہرائی سے محسوس کرتے ہیں۔صحت کے شعبے کو بااختیار بنانے کی سمت میں انہوں نے ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ لیا ہے۔ طویل عرصے سے بیرون ملک سے پڑھ کر آنے والے ڈاکٹروں کو اسٹائپینڈ نہیں مل رہا تھا، جس سے ان کا حوصلہ مسلسل متاثر ہو رہا تھا۔ کئی بار طلبہ نے اپنے مسائل ان کے سامنے رکھے، اور ہر بار انہوں نے حساسیت کے ساتھ ان کی بات سنی۔اس فیصلے سے نہ صرف غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس (FMGs) کو ان کا حق ملا ہے، بلکہ پوری طبی برادری میں ایک مثبت پیغام گیا ہے کہ حکومت ان کے مسائل کو سمجھتی ہے اور حل کے لیے پرعزم ہے۔ یہ فیصلہ ڈاکٹروں کے لیے معاشی مدد کے ساتھ ساتھ عزت کا احساس بھی لے کر آیا ہے، جس سے وہ مزید لگن کے ساتھ مریضوں کی خدمت کر سکیں گے اور ریاست کی طبی خدمات کو نئی بلندیوں تک پہنچائیں گے۔ اب ریاست کے تمام سرکاری میڈیکل کالجوں اور ہسپتالوں میں انٹرنشپ کرنے والے FMGs کو نہ صرف مفت انٹرنشپ کی سہولت ملے گی، بلکہ انہیں ہندوستانی میڈیکل گریجویٹس کے برابر اسٹائپینڈ بھی دیا جائے گا۔ریاستی حکومت کی جانب سے یکم جولائی 2023 سے انٹرنشپ کرنے والے غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کے لیے کل تقریباً 53.2کروڑ روپے کی رقم اسٹائپینڈ کے طور پر منظور کی گئی ہے۔ یہ رقم ریاست کے پانچ بڑے سرکاری میڈیکل کالجوں میں تقسیم کی جائے گی، جس سے سینکڑوں انٹرن ڈاکٹروں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
مساوات اور انصاف کی سمت میں بڑا قدم
وزیر صحت ڈاکٹر عرفان انصاری نے اس تاریخی فیصلے پر کہا کہ “میں خود ایک ڈاکٹر ہوں اور بیرون ملک تعلیم کے دوران میں نے بھی اس مسئلے کو قریب سے محسوس کیا ہے۔ اس وقت دل میں یہ ٹھانی تھی کہ اگر کبھی خدمت کا موقع ملا تو اس سمت میں ضرور کام کروں گا۔ آج وہی عزم پورا ہوا ہے۔ ہمارا مقصد ریاست میں صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانا اور ڈاکٹروں کو ان کا وقار دلانا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ جھارکھنڈ میں صحت کی خدمات میں مسلسل بہتری آ رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج ریاست ملک میں صحت کے شعبے میں سرکردہ ریاستوں میں شامل ہو چکی ہے۔
جھارکھنڈ میں صحت کے شعبے میں مسلسل بہتری
ریاستی حکومت کی جانب سے طبی سہولیات کی توسیع، ڈاکٹروں کے مفادات کے تحفظ اور مریضوں کو بہتر علاج فراہم کرنے کے لیے مسلسل ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ اسی کڑی کا ایک اہم حصہ ہے، جس سے نہ صرف ڈاکٹروں کا حوصلہ بڑھے گا بلکہ ریاست کی طبی خدمات بھی مزید مستحکم ہوں گی۔ریاست کے مختلف میڈیکل کالجوں میں کام کرنے والے غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس اور انٹرن ڈاکٹروں نے اس تاریخی فیصلے کیلئےوزیر صحت ڈاکٹر عرفان انصاری کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وزیر موصوف خود طبی شعبے سے وابستہ رہے ہیں، اس لیے وہ ڈاکٹروں کے چیلنجز اور جدوجہد کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ فیصلہ صرف ایک سرکاری حکم نہیں بلکہ ڈاکٹروں کے احترام، خود اعتمادی اور مستقبل کو مضبوطی دینے والا قدم ہے۔ ڈاکٹروں نے یقین ظاہر کیا کہ ایسی حساس قیادت میں جھارکھنڈ کا نظامِ صحت مزید بااختیار ہوگا۔اب بڑی تعداد میں ڈاکٹر جھارکھنڈ میں ہی اپنی خدمات دینے کیلئےآگے آئیں گے۔ پہلے اسٹائپینڈ کی کمی کی وجہ سے ڈاکٹر دوسری ریاستوں کا رخ کر لیتے تھے، جس کی وجہ سے یہاں ماہرین کی کمی رہتی تھی۔ لیکن اب یہ صورتحال بدلے گی—ڈاکٹر دور دراز کے علاقوں تک پہنچ کر طبی خدمات کو مزید مضبوط کریں گے۔اسی سلسلے میں جلد ہی ایک بڑے سیمینار کے ذریعے ڈاکٹر عرفان انصاری کو اعزاز سے نوازنے کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔



