نرسنگ طلباء کے مسائل پر احتجاج، مطالبات پورے نہ ہونے پر ریاست گیر تحریک کی وارننگ
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی ، 30؍ مارچ: بھارتیہ راشٹریہ چھاتر سنگھ (NSUI) کی قیادت میں سینکڑوں طلباء نے رانچی یونیورسٹی کا گھیراؤ کیا اور نرسنگ طلباء سے وابستہ سنگین تعلیمی مسائل پر زور دار احتجاج کیا۔ یہ مظاہرہ خاص طور پر بیسک بی ایس سی نرسنگ اور پوسٹ بیسک بی ایس سی نرسنگ کے مختلف بیچوں کے التوا کا شکار امتحانات، نامکمل رجسٹریشن اور تعلیمی بدانتظامی کے خلاف کیا گیا۔ مظاہرے کے دوران طلباء نے بتایا کہ بیسک بی ایس سی نرسنگ 24-2020 بیچ کے کئی طلباء کے رجسٹریشن نمبر اب تک نامکمل ہیں۔ وہیں 25-2021 بیچ کے چوتھے سال کا امتحان اب تک منعقد نہیں کیا گیا ہے۔ 26-2022 بیچ کے صرف دو سمسٹرز کے امتحانات ہوئے ہیں، جبکہ 27-2023بیچ کے صرف ایک سمسٹر کا امتحان لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 28-2024بیچ کے طلباء کی رجسٹریشن اور امتحان دونوں ہی التوا کا شکار ہیں۔
اسی طرح پوسٹ بیسک بی ایس سی نرسنگ 25-2023بیچ کے دوسرے سال کا امتحان اب تک نہیں ہوا ہے، جبکہ 26-2024بیچ کے طلباء کی رجسٹریشن اور امتحان دونوں ہی بقایا ہیں۔ ان تمام مسائل کی وجہ سے طلباء کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے، جس سے ان میں گہری ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔ طلباء نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام زیر التوا امتحانات کے لیے فوری طور پر امتحانی پروگرام اور تعلیمی کیلنڈر جاری کیا جائے۔ ساتھ ہی تمام سمسٹرز اور سالانہ امتحانات کی تاریخوں کا جلد اعلان کر کے طلباء کو راحت فراہم کی جائے۔ اس تحریک میں این ایس یو آئی جھارکھنڈ کے ریاستی صدر بنئے اوراؤں، نائب صدر امن احمد، جنرل سکریٹری مشرف حسین، رانچی یونیورسٹی صدر کیف علی، رانچی میٹروپولیٹن صدر ستیش کیشری، ریاستی جنرل سکریٹری پون ناگ سمیت امرتانشو کمار، الیاس انصاری، آرین کمار، عبداللہ رحمان، سورج پٹیل، مزمل انصاری (چاند)، سودیش منڈا، رتک ساہو، ہرش کیشری، امن دیپ مہتو، سنجیت کمار اور نپن پانڈے نے نمایاں طور پر شرکت کی۔وہیں نرسنگ چھاتر سنگھ کی جانب سے عبد الصمد، نمت کمار یادو، شبھم مہتو، نولیش ہانسدا اور ابھیشیک کمار نے بھی تحریک میں سرگرم حصہ لیا۔
ریاستی صدر بنئے اوراؤں نے کہا کہ “رانچی یونیورسٹی کی لاپرواہی کی وجہ سے نرسنگ طلباء کا مستقبل تاریک ہوتا جا رہا ہے۔ اگر جلد ہی امتحانی پروگرام اور تعلیمی کیلنڈر جاری نہ کیا گیا تو این ایس یو آئی ریاست گیر تحریک چلانے پر مجبور ہوگی۔”رانچی یونیورسٹی کے صدر کیف علی نے کہا کہ “طلباء کے ساتھ یہ ناانصافی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو فوری طور پر تمام زیر التوا کاموں کو مکمل کرنا ہوگا، ورنہ تحریک مزید تیز کی جائے گی۔” رانچی میٹروپولیٹن صدر ستیش کیشری نے کہا کہ نرسنگ طلباء کے ساتھ ہونے والی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ یونیورسٹی فوری طور پر امتحان کی تاریخ کا اعلان کرے، ورنہ احتجاج میں شدت لائی جائے گی۔ وہیں امن احمد، پون ناگ اور امرتانشو کمار نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ طلباء کا مستقبل داؤ پر ہے، یہ لاپرواہی ناقابل قبول ہے۔ یونیورسٹی فوری طور پر امتحانی پروگرام جاری کرے، ورنہ تحریک تیز کی جائے گی۔ آخر میں این ایس یو آئی جھارکھنڈ کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ کو انتباہ دیا گیا کہ اگر طلباء کے مطالبات پر جلد مثبت پیش رفت نہ ہوئی تو تنظیم کی جانب سے بڑے پیمانے پر مرحلہ وار تحریک چلائی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پر ہوگی۔



