ہوم Jharkhand چترا میں کروڑوں کا کانکنی اور ریونیو گھوٹالہ بے نقاب، جعلی دستاویزات...

چترا میں کروڑوں کا کانکنی اور ریونیو گھوٹالہ بے نقاب، جعلی دستاویزات سے سرکاری خزانے کو نقصان

0
Facebook Messenger Twitter WhatsApp

ریلوے لائن پروجیکٹ میں فرضی لیٹر ہیڈ اور مہروں کا استعمال، محکمہ کانکنی اور پولیس کی مشترکہ تفتیش جاری

جدید بھارت نیوز سروس
چترا، 5 جون :۔چترا ضلع میں شیواپور-کٹھوتیا ریلوے لائن پروجیکٹ کے دوران کروڑوں روپے کے مبینہ کانکنی اور ریونیو گھوٹالے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس معاملے میں سرکاری دستاویزات کی جعل سازی، فرضی ملکیتی سرٹیفکیٹس کی تیاری اور سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کی سازش کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ محکمہ کانکنی کے افسر (ڈی ایم او) منوج کمار ٹوپو اور تعمیراتی ایجنسی ایرکون انٹرنیشنل لمیٹڈ کی شکایت پر پولیس نے تحقیقات تیز کر دی ہیں۔ابتدائی تفتیش کے مطابق، ایرکون انٹرنیشنل نے مٹی کی کھدائی کا ٹھیکہ گیا (بہار) کی میسرز راجہ کنسٹرکشن کو دیا تھا۔ الزام ہے کہ اس دوران 45 لاکھ 50 ہزار مکعب میٹر مٹی کے نام پر ادائیگی حاصل کرنے کے لیے 16 فرضی ملکیتی سرٹیفکیٹس تیار کیے گئے۔ جب ایرکون نے ان دستاویزات کی تصدیق کے لیے محکمہ کانکنی سے رابطہ کیا تو انکشاف ہوا کہ یہ سرٹیفکیٹس کبھی جاری ہی نہیں ہوئے تھے۔ محکمہ کانکنی نے پولیس کو 65 صفحات پر مشتمل ٹھوس شواہد فراہم کیے ہیں، جن میں فرضی مہریں، جعلی دستخط اور سرکاری ریکارڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تفصیلات موجود ہیں۔اس مبینہ گھوٹالے کی مالیت 26 کروڑ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے، جس میں اضافہ متوقع ہے۔ محکمہ کانکنی کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف ریونیو کے نقصان تک محدود نہیں بلکہ سرکاری نظام اور انتظامی کارروائیوں کے ساتھ ایک منظم دھوکہ دہی ہے۔ ڈی ایم او منوج ٹوپو نے متعلقہ ایجنسیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور سرکاری رقم کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔صدر تھانہ انچارج اودھیش سنگھ نے بتایا کہ ایرکون کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ اب اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ اس فرضی نیٹ ورک کے پیچھے کون کون سے عناصر شامل ہیں۔ اس ہائی پروفائل کیس نے ضلع کے انتظامی اور کاروباری حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور اب سب کی نظریں پولیس کی تحقیقات پر مرکوز ہیں۔

Exit mobile version