منریگا قانون کے تحفظ کے لیے 10 سے 29 جنوری تک سرگرم تحریک چلانے کا فیصلہ
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 07؍ جنوری: اراکین پارلیمنٹ، اسمبلی اراکین، ضلع مبصرین، ضلع صدور، بورڈ کارپوریشن کے چیئرمین اور اراکین سمیت کانگریس کے اہم لیڈروں کا اجلاس پردیش کانگریس صدر کیشو مہتو کملیش کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں بطور مہمانِ خصوصی انچارج کے راجو موجود تھے۔اجلاس میں ایس آئی آر (SIR)، پیسا (PESA) رولز اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اراکین پارلیمنٹ، اراکین اسمبلی اور سینئر لیڈروں سے رائے لی گئی۔ کے راجو نے موجودہ لیڈروں اور کارکنوں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تمام گرام پنچایت کمیٹیوں کے 12 اراکین کو اعزاز سے نوازا جائے۔ تنظیم کے پروگراموں کو زمینی سطح پر پنچایت کی سطح کی کمیٹیاں ہی نافذ کر سکتی ہیں، تب ہی تنظیم مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مقررہ تاریخ طے کر کے ہر پنچایت اور وارڈ کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ مختلف ایجنڈوں پر ہونا چاہیے۔ اگلے دو ہفتوں میں بقیہ بی ایل اے (BLA) کا تقرر مکمل کر لیا جائے۔ اتر پردیش میں 79.2 کروڑ ووٹروں کے نام ہٹا دیے گئے، ایک کروڑ ووٹروں سے دادا اور والد کا برتھ سرٹیفکیٹ مانگا گیا جو کہ ممکن نہیں ہے۔ جہاں جہاں اسمبلی اور لوک سبھا میں ہمارے امیدوار رہے ہیں، انہیں فوری طور پر بی ایل اے کا تقرر کرنا ہوگا تاکہ ایس آئی آر میں ووٹروں کے نام نہ کٹیں۔ ‘منریگا بچاؤ سنگرام ‘ کا خاص مقصد منریگا قانون کو مکمل طور پر واپس لانا ہے۔ اس جدوجہد میں پنچایت کمیٹی کا اہم کردار ہوگا۔ نئے قانون سے منریگا کارکنوں کو کیا نقصان ہے اور ان کے حقوق کیسے چھینے گئے ہیں، یہ ہمیں انہیں بتانا ہے۔ پردیش کانگریس صدر کیشو مہتو کملیش نے کہا کہ اگلے ایک ماہ کے اندر ایس آئی آر ہونے والاہے، تمام بی ایل اے کا تقرر کر کے اس کی رسید پردیش کانگریس کے کنیکٹ سینٹرمیں جمع کرانی ہے۔ جھارکھنڈ میں نافذ پیسا رولز کے خلاف جو باتیں پھیلائی جا رہی ہیں، ان کے بارے میں لوگوں کو بیدار کرنا ہے۔ گاندھی جی کا نام مٹانے کی کوششوں اور دیہی معیشت و لوگوں کی مالی زندگی پر پڑنے والے اثرات سے عوام کو آگاہ کرنا ہے۔ 10 جنوری سے 29 جنوری تک ملک گیر سطح پر ہونے والے ‘منریگا بچاؤ سنگرام ‘ کے ہر مرحلے کی تحریک کو پوری سنجیدگی سے چلانا ہے۔ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر پردیپ یادو نے کہا کہ منریگا کے خلاف بی جے پی کا یہ جرات مندانہ قدم برسوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ کسانوں کے لیے فائدہ مند زرعی قوانین کو بھی بدلنے کی کوشش کی گئی تھی۔ زرعی قوانین میں تبدیلی ان کی بگڑی ہوئی سوچ کا نتیجہ ہے۔ وزیر خزانہ رادھا کرشن کشور نے کہا کہ انگریزوں نے جس طرح مظالم ڈھائے، آج بی جے پی اس سے زیادہ جمہوری نظام کو ختم کر کے ظلم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ آج جب ہمیں اپنے حق کا پیسہ نہیں ملتا تو کیا ہمیں مرکزی حکومت سے مالی امداد ملے گی؟پروگرام سے رکن پارلیمنٹ کالی چرن منڈا، ڈاکٹر رامیشور اوراؤں، فرقان انصاری، پردیپ کمار بالموچو، سبودھ کانت سہائے، راجیش ٹھاکر، انوپ سنگھ، نمن وکسل کونگاڑی، ممتا دیوی، بھوشن باڑا، سریش بیٹھا، نشاط عالم، شہزادہ انور اور پردیپ تلسیاں نے بھی خطاب کیا۔ پروگرام میں جے شنکر پاٹھک، رویندر سنگھ، سنجے لال پاسوان، شمشیر عالم، جیوتی سنگھ متھارو، راکیش سنگھ، ستیش پال مجنی، امولیہ نیرج کھلکو، سونال شانتی، رما کھلکو، اشوک چودھری، کمل ٹھاکر، گنجن سنگھ، ابھیلاش ساہو، راجن ورما، کیدار پاسوان، شانتنو مشرا، راجیش سنہا، کمار راجہ سمیت کئی لوگ موجود تھے۔



