جدید بھارت نیوز سروس
چترا | 22 جنوری 2026(راست)امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی جانب سے ریاستِ جھارکھنڈ میں جاری ایس آئی آر بیداری و تربیتی مہم کے تحت ضلع ہزاری باغ کے جامعہ امام ابوحنیفہ اور جامع مسجد جبرا اور ضلع چترا میں مدرسہ رحمت العلوم وادیٔ عرفان میں اہم تربیتی نشستوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ان پروگراموں کا مقصد عوام کو سرکاری دستاویزات کی درستگی، سماجی بیداری، اور دستوری ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا تھا۔ان پروگراموں کی صدارت اور فکری رہنمائی قائدِ وفد حضرت مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی، نائب ناظم امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ نے فرمائی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہمیں ہر وقت بیدار رہنے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ برادرانِ وطن سے روابط استوار کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے، تاکہ غلط پروپیگنڈے کے نتیجے میں جو فضا ہمارے لیے ناسازگار ہوتی جا رہی ہے، اسے سازگار بنایا جا سکے اور ذہنوں میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جھارکھنڈ میں ایس آئی آر کے سلسلے میں شروع کی گئی یہ بیداری اور تربیتی مہم کوئی وقتی اقدام نہیں؛ بلکہ ملت کے فکری، سماجی اور دستوری مستقبل کی ایک سنجیدہ اور دور رس جدوجہد ہے، جس کے اثرات پوری ریاست میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔موصوف نے کہا کہ ایس آئی آر دراصل اسی شعوری جدوجہد کا ایک عملی مرحلہ ہے، جس کا مقصد ہر بستی میں ایسے باشعور نوجوان تیار کرنا ہے جو خدمتِ خلق کے جذبے کے ساتھ عوام کی بروقت رہنمائی کر سکیں اور ملتِ اسلامیہ ہر حال میں باخبر اور منظم رہے۔اسی سلسلے میں گزشتہ روز ضلع ہزاری باغ کے جامعہ ابوحنیفہ اور جبرا کی رشیدی مسجد میں اور آج 22 جنوری کو ضلع چترا کے وادیٔ عرفان میں ایس آئی آر کی تربیتی نشستیں منعقد ہوئیں، جن میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ان نشستوں میں مولانا ڈاکٹر حفظ الرحمٰن حفیظ نے وقف کے تحفظ کے نہایت اہم موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے توجہ دلائی کہ نئے وقف ایکٹ کے تحت وقف جائیدادوں پر لاء آف لمیٹیشن کا اطلاق ہوگا، اس لیے غفلت نہ برتی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر آبادی میں وقف جائیدادوں کا سروے کیا جائے اور انہیں بروئے کار لایا جائے، کیونکہ استعمال ہی حفاظت کی سب سے مؤثر تدبیر ہے اور اسی کے ذریعے ملت کی تعلیمی، سماجی، اقتصادی اور ثقافتی مشکلات کا حل ممکن ہے۔ انہوں نے وقف جائیدادوں سے متعلق سوالات کے تسلی بخش جوابات بھی دیے۔وہیں مفتی اکرام الدین قاسمی اور مفتی قیام الدین قاسمی نے پروجیکٹر کی مدد سے ایس آئی آر کی تفصیلات پر مبنی پریزنٹیشن پیش کی اور شرکاء کو عملی تربیت دی۔ انہوں نے مطلوبہ دستاویزات، احتیاطی نکات کی وضاحت کی اور شرکاء سے عملی مشق بھی کروائی، جس سے پروگرام کی افادیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ شرکاء کے سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے گئے اور عملی مسائل کے قابلِ عمل حل پیش کیے گئے۔واضح رہے کہ ضلع ہزاری باغ کے جامعہ ابوحنیفہ کے پروگرام کو کامیاب بنانے جناب مفتی ثناء اللہ قاسمی صاحب قاضی شریعت ہزاری باغ اور جبرا کے پروگرام میں امارتِ شرعیہ کے مبلغ حضرت حافظ شہاب صاحب کی کوشش اور جد وجہد رہی، جبکہ ضلع چترا کے پروگرام کا کامیاب انعقاد مولانا وہاج صاحب، مدرسہ رحمت العلوم وادیٔ عرفان کی مخلصانہ جدوجہد کا نتیجہ رہا۔یہ بیداری مہم حضرت امیرِ شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ العالی کی نگرانی میں پورے جھارکھنڈ میں زور و شور سے جاری ہے، جبکہ مرکزی دفتر امارتِ شرعیہ سے حضرت مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی، ناظم امارتِ شرعیہ اور دیگر ذمہ داران وفد سے مسلسل رابطے میں ہیں۔تینوں پروگرام قائدِ وفد حضرت مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی کی دعا پر اختتام پذیر ہوئے۔



