ہومJharkhandکوئلہ لدے ہائیوا نے دو نوجوانوں کو کچلا، موقع پر ہی موت

کوئلہ لدے ہائیوا نے دو نوجوانوں کو کچلا، موقع پر ہی موت

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

مشتعل دیہاتیوں نے سڑک جام کر دی

جدید بھارت نیوز سروس
چترا،6؍مئی: چترا ضلع کے ’بلیک ڈائمنڈ‘شہر ٹنڈوا میں سڑکیں اب محض راستہ نہیں رہیں بلکہ ہر صبح یہاں کسی ہولناک حادثے کا سایا منڈلاتا ہے، جہاں لوگ کہتے ہیں کہ سورج امید نہیں بلکہ یہ خوف لے کر طلوع ہوتا ہے کہ نہ جانے آج کون گھر واپس نہیں لوٹے گا۔ بدھ، 6 مئی کی صبح تقریباً 30:5بجے یہ ڈر اس وقت حقیقت بن گیا جب مجراہی موڑ کے پاس ایک تیز رفتار کوئلہ لدے ہائیوا نے اسکوٹی سوار دو نوجوانوں کو اس طرح کچل دیا جیسے سڑک اس کی جاگیر ہو، اور اس بھیانک ٹکر کے نتیجے میں دونوں نوجوانوں نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔ سڑک پر بکھری لاشیں نہ صرف حادثے کا ثبوت تھیں بلکہ سسٹم کی ناکامی اور کمپنیوں کی من مانی کی گواہی دے رہی تھیں، جس پر مقامی دیہاتیوں کا غصہ پھٹ پڑا اور انہوں نے اسے حادثہ نہیں بلکہ “قتل” قرار دیا ہے۔ دیہاتیوں کا سنگین الزام ہے کہ کوئلہ ڈھونے والی کمپنیاں منافع کے لیے تمام حفاظتی قوانین کو پامال کرتے ہوئے گھنی آبادیوں اور بازاروں سے تیز رفتار گاڑیاں گزارتی ہیں، جس کی وجہ سے عام سڑکیں اب ’کول ٹرانسپورٹ کوریڈور‘بن چکی ہیں جہاں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں بچی۔ اس حادثے کے بعد مشتعل ہجوم نے مجراہی موڑ پر سڑک جام کر دی اور مطالبہ کیا کہ مہلوکین کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ اور ملازمت دی جائے، نیز ہائیوا کی رفتار پر سخت قابو پانے کے لیے مستقل قوانین وضع کیے جائیں۔ مقامی مکھیا مہیش منڈا نے بھی عوامی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دیہاتوں کے درمیان رفتار کی یہ دہشت اب برداشت نہیں کی جائے گی، کیونکہ مانیٹرنگ کا نظام نہ ہونے اور حفاظتی معیار صرف کاغذوں تک محدود ہونے کی وجہ سے ٹنڈوا کی سڑکیں “خونی سڑکوں” میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہر بار حادثے اور احتجاج کے بعد انتظامیہ خاموش کیوں ہو جاتی ہے، اور ٹنڈوا کے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ آخر کب تک ان کے بچوں کی لاشیں یوں ہی سڑکوں پر گرتی رہیں گی، کیونکہ اگر اب بھی سسٹم نہ جاگا تو اگلی باری کسی کی بھی ہو سکتی ہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.