منریگا سے گاندھی کا نام ہٹانے پر کانگریس برہم؛ رانچی میں باپو واٹیکا کے سامنے اپواس احتجاج
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،11؍جنوری: ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ کے تحت پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق آج ریاست کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں ایک روزہ روزے (احتجاجی اپواس) کا پروگرام منعقد کیا گیا۔ اسی کڑی میں آج رانچی میں مہاتما گاندھی کے مجسمے (باپو واٹیکا) کے سامنے منریگا سے مہاتما گاندھی کا نام ہٹانے اور اسکیم سے روزگار کی ضمانت ختم کرنے کے خلاف احتجاجی پروگرام منعقد ہوا۔روزے کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے پردیش کانگریس صدر کیشو مہتو کملیش نے کہا کہ نیا قانون دیہی معیشت کو کمزور کرتا ہے، غریبوں کے روزگار کے آئینی حق کو ختم کرتا ہے اور اس کا سب سے زیادہ اثر دلتوں، قبائلیوں اور غریب خواتین پر پڑے گا۔ انہوں نے نئے قانون پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ روزگار اب حق نہیں رہا بلکہ یہ حکومت کی مرضی پر منحصر ہوگا۔ ہر سال 5 سے 6 کروڑ دیہی خاندانوں کو بحران کے وقت منریگا نے حفاظتی ڈھال فراہم کی، لیکن نئے قانون سے اب تمام طاقت مرکز کے پاس مرکوز ہو جائے گی۔ پنچایتیں صرف کلرک بن کر رہ جائیں گی، کام صرف انہی پنچایتوں میں ملے گا جنہیں مرکزی حکومت نوٹیفائی کرے گی۔ کئی پنچایتوں کو فنڈز نہیں ملیں گے جس سے مقامی منصوبے متاثر ہوں گے اور یہ 73 ویں آئینی ترمیم کی روح کی خلاف ورزی ہوگی۔نئے قانون کے تحت اسکیم میں بجٹ کی حد اور مختص رقم پہلے سے طے ہوگی، جس سے فنڈز ختم ہونے پر کام رک جائے گا۔ منریگا میں مہنگائی سے جڑی طے شدہ مزدوری دی جاتی تھی، نئے قانون میں اس یقین دہانی کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اب زراعت کے عروج (پیک سیزن) کے دوران 60 دن کام نہیں مل سکے گا۔ جب گاؤں میں سب سے زیادہ پریشانی ہوگی، تو حکومت قانونی طور پر کام دینے سے انکار کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاغذ کے ٹکڑوں سے تو آپ سازش کر کے گاندھی کا نام ہٹا سکتے ہیں، لیکن ملک کی 140 کروڑ عوام کے دلوں میں گاندھی کل بھی راج کرتے تھے اور آج بھی، اسے ہٹایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس مزدوروں کی لڑائی کل بھی لڑتی تھی اور آج بھی ہم یہ لڑائی لڑ رہے ہیں اور اسے انجام تک پہنچا کر ہی دم لیں گے۔وزیر صحت عرفان انصاری نے کہا کہ ہم اس کے لیے آر پار کی لڑائی لڑنے کو تیار ہیں۔ گاندھی کے خوابوں کو ہم گاندھی کے ملک میں کچلے جانے نہیں دیں گے۔آج کے اس احتجاجی پروگرام میں پردیش کانگریس کے کارگزار صدر بندھو ترکی، پردیش کانگریس کمیٹی کے سابق صدر راجیش ٹھاکر، پردیپ تلسیاں، رویندر سنگھ، شمشیر عالم، جیوتی سنگھ متھارو، راکیش سنہا، ششی بھوشن رائے، کمار راجہ، سومیشور منڈا، آلوک دوبے، کشور سہدیو، محمد توصیف، راجیش سنہا سنی، امریندر سنگھ، سنیل سنگھ، سنجے کمار، نیتو دیوی، شہباز احمد سمیت سینکڑوں کانگریس کارکنان موجود تھے۔



