وائرل تصاویر میں ملزم بھیم رام پارٹی کا پٹہ پہنے مہم چلاتے ہوئے نظر آیا
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 3 اپریل:۔ ہزاری باغ ضلع کے وشنو گڑھ تھانہ علاقے کے تحت آنے والے کسمبا میں ایک نابالغ کے قتل کو لے کر سیاست تیز ہو گئی ہے۔ اس معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے لیڈروں کے بیانات پر اب سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بی جے پی کے ریاستی صدر نے گزشتہ جمعرات کی شام ایک پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا کہ اس گھناؤنے قتل کے مرکزی ملزم بھیم رام کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ اس کیس میں ملوث تمام ملزمان کو سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔ تاہم بی جے پی کے اس دعوے کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کچھ تصاویر نے پورے معاملے کو ایک نیا موڑ دے دیا ہے۔ ان تصاویر میں مبینہ ملزم بھیم رام بی جے پی کے جھنڈے اور پارٹی کے بیج کے ساتھ نظر آرہا ہے۔ یہ تصاویر مبینہ طور پر لوک سبھا انتخابات کی ہیں، جب وہ ہزاری باغ حلقے میں پارٹی امیدوار کے لیے سرگرم انتخابی مہم چلا رہے تھے۔ فوٹو میں ان کے ساتھ بی جے پی کے کچھ مقامی لیڈر بھی نظر آرہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر لوگ اب سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ملزم کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں تھا تو وہ پارٹی رہنماؤں کے ساتھ انتخابی مہم چلاتے کیسے دیکھا جا سکتا تھا؟ کیا وہ محض ایک باقاعدہ حمایتی تھے یا پارٹی کے اندر کسی عہدے پر فائز تھے؟ اس پورے واقعہ نے بی جے پی کو بے چینی میں ڈال دیا ہے۔ ایک طرف پارٹی ملزموں سے خود کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو دوسری طرف ابھرتی ہوئی تصاویر اس کے دعوؤں کی ساکھ پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ اس قتل کے بعد بی جے پی لیڈروں نے ریاست کی ہیمنت سورین حکومت اور ضلع انتظامیہ کی سخت تنقید کی تھی۔ انہوں نے امن و امان پر سوال اٹھاتے ہوئے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔



