Monday, January 19, 2026
ہومJharkhandانش اور انشیکا کی گمشدگی سے فاش ہوا بین ریاستی بچہ چوری...

انش اور انشیکا کی گمشدگی سے فاش ہوا بین ریاستی بچہ چوری کا نیٹ ورک

رانچی پولیس نے 12 مزید بچے بحفاظت بازیاب کرائے، 15 بچہ چور گرفتار

گروہ کے تار بہار، مغربی بنگال اور اوڈیشہ تک پائے گئے؛ بھیک منگوانے سے لے کر قحبہ گری تک کیلئے ہوتا تھا بچوں کا استعمال

جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 18 جنوری: ۔جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں پولیس نے بچوں کے اغوا میں ملوث ایک بڑے اور منظم بین ریاستی گروہ کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 12 اغوا شدہ بچے بازیاب ہوئے اور 15 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ یہ گروہ بچوں کو اغوا کر کے بھیک مانگنے، جسم فروشی اور انسانی اسمگلنگ جیسے گھناؤنے دھندوں میں ملوث تھا۔
یہ کارروائی وزیر اعلیٰ ہیمانت سورین، ڈی جی پی تداشا مشرا اور سی آئی ڈی اے ڈی جی منوج کوشک کی ہدایت پر ایس ایس پی راکیش رنجن کی قیادت میں بنائی گئی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) نے انجام دی۔ ایس ایس پی راکیش رنجن نے اتوار کو پریس کانفرنس میں پورے معاملے کا انکشاف کیا اور گرفتار ملزمان کے نام بھی ظاہر کیے۔
گرفتار ملزمان کے نام: ورودھی کھیروار، انتھونی کھیروار، پرمود کمار، عاشق گوپ، راج روانی، نو کھیروار، سونی کماری، چاندنی دیوی، سیتا دیوی، دینو بھوئیاں، سنیاسی کھیروار، مالن دیوی، بیبی دیوی، سونیا دیوی اور اپیا کھیروار۔
رام گڑھ سے ملی کلیدی معلومات
اس پورے نیٹ ورک کا انکشاف ایک بچے کے اغوا کی تحقیقات کے دوران ہوا۔ رام گڑھ سے حاصل ہونے والے سراغ نے SIT کو گروہ کی مکمل تفصیل فراہم کی۔ نو کھیروار اور سونی کماری کی گرفتاری کے بعد ملزمان نے گروہ کے دیگر ارکان اور بین ریاستی تعلقات کا انکشاف کیا۔ گروہ کے تار جھارکھنڈ کے ساتھ ساتھ بہار، مغربی بنگال اور اوڈیشہ تک پھیلے ہوئے تھے۔
ملزمان نے اعتراف کیا کہ گروہ مرد اور خواتین دونوں ارکان کے ذریعے منصوبہ بندی سے بچوں کو اٹھاتا اور انہیں مختلف غیر قانونی کاموں میں استعمال کرتا تھا، جن میں:

  • عوامی مقامات پر بھیک مانگوانا
  • دیگر ریاستوں میں فروخت کرنا
  • جسم فروشی
  • جیب کٹائی اور چھوٹے جرائم
    ایس ایس پی راکیش رنجن نے کہا کہ ملزمان کے اعترافات کے مطابق گروہ کے تار انسانی اعضا کی اسمگلنگ سے بھی جڑے ہو سکتے ہیں، جس پر پولیس گہرائی سے تحقیقات کر رہی ہے۔
    12 بچوں کی بازیابی
    SIT کی کارروائی کے دوران رانچی (سلی)، رام گڑھ (کوٹھار) اور لاتیہار (باریاتو) سے مجموعی طور پر 12 بچوں کو بازیاب کرایا گیا۔ بازیاب بچوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
  • رانچی کے کھادگڑھا بس اسٹینڈ سے اغوا کی گئی ایک بچی (دو سال قبل)
  • سنبل پور ریلوے اسٹیشن، اوڈیشہ سے اغوا کی گئی ایک بچی (تین سال قبل)
  • لاتیہار کے باریاتو سے اغوا کی گئی پانچ بچیاں (تین سال قبل)
  • دھنباد سے اغوا کی گئی دو بچیاں (تین سال قبل)
  • لوہردگا سے اغوا کی گئی ایک بچی (تین سال قبل)
  • جگن ناتھ پور، رانچی سے اغوا کی گئی ایک بچی (ایک سال قبل)
    ملزمان نے مزید اعتراف کیا کہ کچھ بچوں کو بہار کے ضلع اورنگ آباد اور مغربی بنگال کے مختلف علاقوں میں فروخت کیا گیا تھا، جس کی بازیابی کے لیے پولیس سرگرم ہے۔
    کارروائی اور مستقبل کے اقدامات
    SIT نے اب تک 15 ملزمان کو گرفتار کیا ہے اور مزید ممکنہ ملوث افراد کی شناخت کے لیے بین ریاستی چھاپے جاری ہیں۔ ایس ایس پی راکیش رنجن نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کسی بچے کے اغوا کی اطلاع ہو تو فوری طور پر نزدیکی پولیس اسٹیشن یا کنٹرول روم سے رابطہ کریں۔
    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی صرف ابتدا ہے اور گروہ کے دیگر ریاستوں میں موجود رکن، فائنینسر اور سرکردہ افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے اور تحقیقات جاری ہیں۔
Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات