Sunday, January 11, 2026
ہومJharkhand14 فیصد یادو برادری کو ان کے تناسب کے مطابق سیاست میں...

14 فیصد یادو برادری کو ان کے تناسب کے مطابق سیاست میں حصہ نہیں ملا

27 فیصد ریزرویشن کی کمی سے معاشی اور سماجی ترقی میں نقصان ہوا:کیلاش یادو

جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 04؍ جنوری: ‘بلرام کرشن کلیان سمیتی یادو سماج ‘ کا ایک اہم اجلاس دھروا پرانی اسمبلی کے میدان میں منعقد ہوا۔ میٹنگ کے دوران ممبران نے یادو برادری کی خوشحال ترقی پر تشویش کا اظہار کیا۔ بحث کے دوران سماجی بہتری کے لیے متعدد امور پر اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا۔ میٹنگ میں خاص طور پر موجود بلرام کرشن کلیان سمیتی یادو سماج کے سرپرستِ اعلیٰ اور راشٹریہ جنتا دل (RJD) لیڈر کیلاش یادو نے کہا کہ ریاست میں یادو سماج کی آبادی تقریباً 14 فیصد ہے۔ یادو برادری کئی ذیلی ناموں سے جانی جاتی ہے جیسے یادو، گوپ، اہیر، مہتو، مانجھی، گھوش سمیت درجنوں القابات شامل ہیں۔ ریاست میں تقریباً 14 فیصد آبادی کے باوجود یادو سماج سماجی نظر اندازی کا شکار رہا ہے۔ تعلیمی، اقتصادی اور سماجی ترقی کے معاملے میں یہ سماج درجنوں اضلاع میں پچھڑا ہوا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں نئی نسل تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے لیکن سیاسی حصہ داری کافی کمزور ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ یادو سماج کے بھگوان کرشن کی اولاد ہیں، اس سماج کا مقصد عوامی فلاح و بہبود اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔ یادو سماج کی 14 فیصد آبادی ہونے کے باوجود اسے سیاست میں متوقع حصہ داری نہیں ملی۔ چترا، کوڈرما، گوڈا اور دھنباد جیسے لوک سبھا حلقوں کے علاوہ گوڈا، حسین آباد، کوڈرما، جرمونڈی، نالہ، جامتاڑا، رام گڑھ، بڑکا گاؤں، بوکارو، دھنباد، جھریا، گریڈیہہ، گانڈے، ہٹیا، رانچی اور جمشید پور مشرقی، مدھوپور سمیت تقریباً 20 اسمبلی حلقوں میں یادو سماج کی نمائندگی ہونی چاہیے۔ ریاست میں او بی سی (OBC) کو 27 فیصد ریزرویشن ملا ہوا تھا، جھارکھنڈ ملک کی پہلی ریاست ہے جہاں او بی سی طبقات کی تعداد تقریباً 60 فیصد ہے، اس کے باوجود انہیں صرف 14 فیصد ریزرویشن ملنا سماجی ترقی کے ساتھ ناانصافی ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں بی سی-1 اور بی سی-2 کو الگ کر کے کمزور کیا گیا ہے۔ ریاست کے 10 اضلاع جیسے سمڈیگا، کھونٹی، گملہ، لوہردگا اور سرائےکیلا وغیرہ میں ریزرویشن صفر ہے، جہاں او بی سی کی 60 فیصد آبادی ہونے کے باوجود اسے محفوظ حلقہ (Reserved Category) قرار دے دیا گیا ہے۔ میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ اگلی میٹنگ سیکٹر 3 واقع دھروا رادھا کرشن مندر میں ہوگی جس میں کئی بڑے فیصلے لیے جائیں گے۔ بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر رانچی میٹروپولیٹن کے کل 53 وارڈوں کے نمائندے اس میٹنگ میں شرکت کریں گے۔اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ لیا گیا کہ سیکٹر 3 میں ایک عظیم الشان رادھا کرشن مندر تعمیر کیا جائے گا، اس کام کے لیے 50 رکنی خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔کیلاش یادو نے کہا کہ بلرام کرشن کلیان سمیتی تقریباً 40 سال پرانی تنظیم ہے جس میں ماضی کے دوران متحدہ بہار کے وزیر اعلیٰ دروگا پرساد رائے، سابق مرکزی وزیر رام لکھن سنگھ یادو، رام ودھیش سنگھ یادو، رام جے پال سنگھ یادو، لالو پرساد یادو اور چودھری چرن سنگھ جیسے کئی بڑے سیاسی لیڈر آتے رہے ہیں۔ میٹنگ میں سرپرست نندن یادو، صدر ببن یادو، سکریٹری سنجیت یادو، وبھاکر یادو، رنجن یادو، امیش یادو، رام کمار یادو، راج کشور سنگھ یادو، پرمود یادو کے علاوہ سینکڑوں لوگ موجود تھے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات