
نئی دہلی،29مارچ(ایجنسی) کانگریس رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ایک پرائیویٹ بینک کے کچھ ملازمین سے ملاقات کر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے بعد انہوں نے بی جے پی پر بینکنگ سیکٹر کو بحران میں ڈالنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کی اقربا پروری اور ریگولیٹری بدانتظامی نے ہندوستان کے بینکنگ سیکٹر کو بحران میں ڈال دیا ہے، جس کی وجہ سے جونیئر ملازمین کو تناؤ اور دباؤ کی حالت میں کام کرنا پڑ رہا ہے۔راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا جس میں وہ آئی سی آئی سی آئی بینک کے سابق ملازمین کے ایک وفد کے ساتھ میٹنگ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ پوسٹ میں راہل گاندھی نے لکھا کہ ’’بی جے پی حکومت نے اپنے ارب پتی دوستوں کے 16 لاکھ کروڑ روپے کے قرضے معاف کر دیے ہیں۔ ریگولیٹری بدانتظامی کے ساتھ اقربا پروری نے ہندوستان کے بینکنگ سیکٹر کو بحران میں ڈال دیا ہے۔ یہ بوجھ بالآخر جونیئر ملازمین پر پڑتا ہے، جو دباؤ اور کام کے زہریلے حالات کا شکار ہوتے ہیں۔‘‘راہل گاندھی نے اس حوال سے مزید کہا کہ کانگریس پارٹی ان کام کرنے والے پیشہ ور افراد کے حقوق کے لیے لڑے گی اور ان کے کام کی جگہ پر ہونے والے اضافی تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کرے گی۔ ساتھ ہی راہل گاندھی نے ان لوگوں سے بھی اپنے پیغام بھیجنے کی اپیل کی ہے، جنہوں نے اس طرح کی ناانصافیوں کا سامنا کیا ہے۔راہل گاندھی نے بتایا کہ آئی سی آئی سی آئی بینک کے 782 سابق ملازمین کے ایک وفد نے پارلیمنٹ میں ان سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی کہانیوں میں کام کی جگہ پر ہراسانی، جبری تبادلے، این پی اے ڈفالٹرز کو غیراخلاقی قرض دینے کی اطلاع دینے کے بعد انتقامی کارروائی اور بغیر کسی مناسب عمل کے برطرفی جیسے مسائل کا انکشاف ہوا ہے۔
