ترکیہ عالمی نظام کی بدلتی ہوئی شکل میں ایک مرکزی طاقت کے طور پر ابھرے گا: صدر ایردوان
انقرہ، 23 جنوری (یو این آئی) ترکیہ کے سینٹرل بینک کے سرکاری بین الاقوامی اثاثے 16 جنوری تک پہلی بار 200 بلین ڈالر کی حد سے تجاوز کرگئے ہیں ۔جمعرات کو جاری اعداد و شمار کے مطابق بینک نے اعلان کیا ہے کہ یہ اثاثے 4.6 فیصد یعنی 9.1 بلین ڈالر کے اضافے کے ساتھ گزشتہ ہفتے کے 196.1 بلین ڈالر سے بڑھ کر 205.2 بلین ڈالر ہو گئے۔قابلِ تبادلہ غیر ملکی کرنسیوں میں غیر ملکی کرنسی کے اثاثے گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 6.7 فیصد کے اضافے سے 76.4 بلین ڈالر کی سطح تک پہنچ گئے۔بینک کے سونے کے ذخائر، اسی دورانیہ میں 3.7 فیصد کے اضافے سے 121 بلین ڈالر تک ہیں۔دریں اثنا، مجموعی آئی ایم ایف ریزرو پوزیشن اور خصوصی ڈرائنگ رائٹس 0.2 فیصد کم ہو کر 7.7 بلین ڈالر رہ گئے۔ترک وزیرِ خزانہ مہمت شمشیک نے بتایا ہے کہ عمل درآمدکردہ پروگرام کے باعث مجموعی ذخائر تقریباً 107 بلین ڈالر بڑھ کر 205.2 بلین ڈالر ہوگئے۔شمشیک نے ترکیہ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم NSosyal پر لکھا، ‘سویپس کو نکال کر نیٹ ذخائر میں اضافہ 139.3 بلین ڈالر تھا۔ ہم نے بین الاقوامی معیارات کے مطابق ریزرو کفایتِ اطمینان حاصل کر لی ہے۔اسی دوران، انہوں نے کہا کہ ترکیہ143 بلین ڈالر کی ممکنہ بوجھ سے باہر نکلنے کا عمل مکمل کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں غیر ملکی زرمبادلہ کی پوزیشن میں مجموعی بہتری 280 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی۔شمشیک نے مزید کہا، میکرو فنانشل استحکام کو مضبوط کرنا ہمارے رسک پریمیم میں نمایاں کمی اور ہماری معیشت کو جھٹکوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنا رہا ہے۔
ترکیہ کے صدر صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ نئے حالات میں سامنے آنے عالمی نظم و نسق کے مرکزی قطبوں میں سے ایک بن جائے گا۔صدر ایردوان نے ترک کاروباری شخصیات کی کنفیڈریشن کے ساتویں غیر معمولی عمومی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ،شام کی طرح ، ہم ایک ایسے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں جس میں ہم اپنی قربانیوں اور کوششوں کا ثمر پائیں گے اور تاریخ اور ضمیر کے صحیح رخ پر کھڑے رہنے کے نفع کو حاصل کریں گے۔”انہوں نے کہا کہ دنیا آہستہ آہستہ اُس جانب بڑھ رہی ہے جس کا ہم ذکر کرتے چلے آئے ہیں۔ وہ نکتہ چینی جو ہم برسوں سے عالمی سیاست کے بارے میں کر رہے تھے، آج ان کی درستگی واضح ہو رہی ہے۔”ایردوان نے کہا کہ ترکیہ کا راستہ اور مستقبل روشن ہیں، نئے دروازے کھلیں گے، نئے مواقع پیدا ہوں گے اور توقع سے بڑھ کر امکانات سامنے آئیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ “ہم ایک بالکل نئے سفر پر ہیں جہاں ہماری داستانیں یاد رکھی جائیں گی، ہماری کامیابیوں کی بات دوست اور دشمن دونوں کریں گے اور بالآخر ایک عظیم اور طاقتور ترکیہ وجود میں آئے گا،‘‘
انہوں نے کاروباری افراد اور تاجروں سے کہا کہ وہ اُن ماہرِ معاشیات کونظر انداز کریں جو برسوں سے ترکیہ کے بحران، افراتفری، ہنگامہ خیزی اور معاشی مشکلات میں ڈوبنے کے منتظر ہیں۔دریں اثنا، ایک امریکی خارجہ پالیسی کے ماہر نے کہا ہے کہ گرین لینڈ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ترکیہ امریکہ اور یورپ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے۔بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے فارن پالیسی پروگرام کے تحت اسٹروب ٹالبٹ سینٹر برائے سیکیورٹی، حکمتِ عملی اور ٹیکنالوجی کے ماہر فِلِپ گورڈن کا کہنا ہے کہ جب ٹرانساٹلانٹک تعلقات دباؤ میں آ رہے ہوں تو ترکیہ کی پوزیشن اسے ایک اہم مقام دلا رہی ہے۔گورڈون نے کہا کہ ’’خاص طور پر جب ٹرانساٹلانٹک تعلقات زوال پذیر ی کے شکار ہیں تو ترکیہ کا مؤقف بڑا اہم ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ترکیہ پہلے ہی یوکرین اور روس کے درمیان پُل کا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ ساتھ ہی واشنگٹن کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش بھی کر رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکثر ترک صدر رجب طیب ایردوان کے بارے میں مثبت انداز میں بات کی ہے۔



