انقرہ، 23 اپریل (یو این آئی) ترکیہ کے وزیرِ خزانہ و محصولاتِ عامہ، مہمت شیمشیک نے بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تحفظ پسندی اور معاشی تقسیم سے نمٹنے کے لیے ‘ترقیاتی راستے اور ‘وسطی راہداری جیسی عالمی تجارتی شاہراہوں میں ترکیہ کی سرمایہ کاری پر زور دیا ہے۔انہوں نے بدھ کے روز ‘چینل 7’ کی جانب سے منعقدہ ‘رائزنگ ترکیہ اجلاس، میں تقریر کے دوران کہا کہ ترکیہ رابطوں اور علاقائی معاشی انضمام میں سرمایہ کاری کرکے تجارتی راہداریوں کو عالمی تقسیم کے خلاف ملکی مفاد میں مضبوط بنا رہا ہے۔ اس وقت دنیا کو درپیش غیر یقینی صورتحال کا کا ذکر کرتے ہوئے شیمشک نے کہا ہے کہ اس وقت دنیا کو بے مثال قطب بندی، تنازعات اور تناؤ کا سامنا ہے۔ایران اور اسرائیل امریکہ جنگ کے ساتھ کچھ عارضی میکرو اکنامک اثرات مرتب ہوئے ہیں؛ مارکیٹوں میں عالمی افراطِ زر میں اضافے کی توقع ہے، مالیاتی حالات میں کچھ حد تک سختی کا خطرہ ہے اور ترقی کی رفتار میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔ شمشیک نے کہا ہے کہ بصرہ سے ترکیہ تک پھیلی ہوئی تقریباً 1,200–1,250 کلومیٹر لمبی ریلوے لائن، ایک شاہراہ اور ایک توانائی کی راہداری پر مشتمل ترقیاتی راستہ ان رابطوں کی کوششوں میں سے ایک ہے۔متحدہ عرب امارات، قطر اور عراق کی اس منصوبے میں شرکت کا ذکر کرتے ہوئے مہمت شیمشک نے کہا ہے کہ ‘وسطی راہداری، ایشیا کو یورپ سے جوڑنے والی اہم راہداریوں میں سے ایک ہے اور یہ اناطولیہ سے گزرتی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ “استنبول میں تیسرا پل، اس پل سے گزرنے والے ریلوے کنکشن کے لیے خاص طور پر چوڑا بنایا گیا تھا، یہ وسطی راہداری کا سب سے اہم جزو ہے اور یہ 8.1 بلین ڈالر کا منصوبہ ہے”۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہےکہ اس منصوبے کی فنانسنگ کا 83 فیصد بین الاقوامی مالیاتی ادارے فراہم کریں گے۔ وزیر نے مزید کہا ہے کہ ترکیہ نے وسطی راہداری کو مضبوط بنانے کے لیے عالمی بینک کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
ترکیہ عالمی تجارتی راہداریوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہے: شیمشیک
مقالات ذات صلة










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4592791