واشنگٹن،02مئی (ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن ایران کی بندرگاہوں پر لگایا گیا محاصرہ جلد ختم نہیں کرے گا، انہوں نے مزید کہا کہ “ہمارے پاس بہت وقت ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ اپنی محاذ آرائی کو وقت سے پہلے ختم نہیں کرے گا تاکہ “تین سال بعد یہ مسئلہ دوبارہ سر نہ اٹھائے اور ہمیں اسے دوبارہ حل کرنے کے لیے واپس نہ آنا پڑے۔انہوں نے اعلان کیا کہ “ایران اب تباہ ہو چکا ہے اور اس کے جہاز سمندر کی تہہ میں ہیں”۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ “اس کی تمام قیادت ماری جا چکی ہے اور اب وہاں کوئی قیادت موجود نہیں، یہ بتانا مشکل ہے کہ اب ایران میں قائد کون ہے۔امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن نے جمعہ 1 مئی سنہ 2026ء کو ایران سے رابطہ کیا تھا تاہم تہران نے ان مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جن پر امریکہ اصرار کر رہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اگر امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ نہ بناتا تو “وہ مشرق وسطیٰ کو تباہ کر چکا ہوتا۔ریاست فلوریڈا میں ایک اور خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایران کی میزائل سازی کی 85 فیصد صلاحیت ختم کر دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: “ہم نے ایران پر آبنائے ہرمز بند کر دی ہے”۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ تہران کا خوراک کا ذخیرہ 3 ماہ میں ختم ہو جائے گا۔امریکی صدر نے ذکر کیاکہ “ہم نے ایرانی قیادت کی پہلی اور دوسری صف کا صفایا کر دیا ہے۔ اب ایران میں ایک نیا نظام ہے اور ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کس سے بات کی جائے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی “ناقص معاہدے” کی اجازت نہیں دیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ “ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک کو ڈرا دھمکا رہا تھا۔اس سے قبل جمعہ کے روز امریکی صدر نے بیان دیا تھا کہ وہ ایران پر دوبارہ حملوں کا حکم نہ دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ فلوریڈا روانگی سے قبل وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: “میں ایسا نہ کرنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر میری ترجیح یہی ہے لیکن یہ دستیاب آپشنز میں سے ایک ہے”۔ بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے امریکی کانگریس کو مطلع کیا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن کو مکمل سمجھتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ امریکہ معاہدے کی تجاویز پر ایران کے ردعمل سے مطمئن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: “وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن میں اس سے مطمئن نہیں ہوں”۔ خبر رساں ایجنسی “ایرنا” کے مطابق ایران نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستانی حکام کو طویل مدتی جنگ بندی پر غور کے لیے نئی تجاویز پیش کی تھیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹیلیفون کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: “انہوں نے پیش رفت کی ہے لیکن مجھے یقین نہیں کہ وہ مطلوبہ نتائج حاصل کر سکیں گے۔ وہ ایسی چیزیں مانگ رہے ہیں جن پر میں اتفاق نہیں کر سکتا”۔
ٹرمپ کا ایران کا محاصرہ جلد ختم نہیں کرنے کا اعلان
مقالات ذات صلة










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4593725