واشنگٹن،30 جنوری (یو این آئی ) صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ صدارتی حکم نامے کے ذریعے عالمی تجارت میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ نئے حکم نامے کے مطابق، جو بھی ملک کیوبا کو تیل فروخت یا فراہم کرے گا، اسے امریکہ کی جانب سے سنگین تجارتی نتائج اور اپنی مصنوعات پر بھاری ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس اقدام کا براہ راست مقصد کیوبا کی حکومت کو ملنے والی توانائی کی سپلائی لائن کاٹنا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق، اس فیصلے کی زد میں سب سے پہلے میکسیکو کے آنے کا امکان ہے، جو کیوبا کا ایک بڑا توانائی پارٹنر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اس ہتھکنڈے کے ذریعے میکسیکو جیسے پڑوسی ممالک کو کیوبا سے دوری اختیار کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ امریکی مداخلت اور پابندیوں کے باعث سپلائی پہلے ہی بند ہو چکی ہے۔میکسیکو کی سرکاری کمپنی ‘پیمیکس ‘ نے سپلائی 20 ہزار بیرل سے کم کر کے 7 ہزار بیرل یومیہ کر دی ہے۔روس کی لاجسٹک اور عالمی پابندیوں کی وجہ سے فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔صدر ٹرمپ نے کیوبا کو ایک “ناکام ملک” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی پالیسی کیوبا کے موجودہ نظام کو معاشی طور پر مفلوج کرنا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ کسی پر زبردستی نہیں کر رہے، لیکن امریکہ ایسے ممالک کے ساتھ تجارت میں رعایت نہیں برتے گا جو کیوبا کی مدد کر رہے ہیں۔دوسری جانب، کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا”یہ صریحاً بلیک میلنگ اور معاشی دہشت گردی ہے جس کا مقصد کیوبا کے عوام کو گھٹنوں کے بل لانا ہے۔”کیوبا اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین توانائی بحران سے گزر رہا ہے۔ امریکی پابندیوں کے نئے سائے میں صورتحال مزید ابتر ہونے کا خدشہ ہے۔ پٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی کلومیٹر طویل قطاریں لگ چکی ہیں۔تیل کی کمی کی وجہ سے پاور پلانٹس کی بندش اور طویل لوڈ شیڈنگ معمول بن گئی ہے۔ لاطینی امریکہ کے ممالک اس فیصلے کو اپنی خودمختاری پر حملہ تصور کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اب کیوبا کا رخ کیا: کیوبا کو تیل دینے والے ممالک پر بھاری ٹیرف کا اعلان
مقالات ذات صلة



