آئی اے ای اے کے سابق سربراہ کا ٹرمپ کو انتباہ، خلیجی ممالک سے اپیل
نیو نارک، 5 اپریل:۔ (ایجنسی) بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل محمد البرادعی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف 48 گھنٹے کا الٹی میٹم جاری کیے جانے کے بعد خلیجی ممالک سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ آئی اے ای اے کے سابق سربراہ نے تباہ کن فوجی تصادم کے اندیشے کا حوالہ دیا۔ البرادعی نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں پڑوسی خلیجی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ براہ کرم، ایک بار پھر اپنی پوری طاقت جھونک دیں۔ اس سے پہلے کہ یہ پاگل شخص خطے کو آگ کا گولہ بنادے۔
غورطلب ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہفتے کو ایک بار پھر ایران کو امن معاہدے تک پہنچنے کا الٹی میٹم جاری کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ یاد کیجئے، جب میں نے ایران کو امن معاہدہ کرنے کے لیے 10 دن کا وقت دیا تھا یا آبنائے ہرمز کو پھر سے کھولنے کے لیے کہا تھا وقت تیزی سے نکل رہا ہے،48 گھنٹے بعد ان پر قہر ٹوٹے گا۔ محمد البرادعی نے اپنی اپیل کو عالمی پلیٹ فارم تک پہنچاتے ہوئے جنگ کو روکنے میں بین الاقوامی اداروں کے کردار پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ساتھ روس، چین اور فرانس کو مخاطب کرتے ہوئے ایک الگ پوسٹ میں انہوں نے پوچھا کہ کیا اس پاگل پن کو روکنے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا؟
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 26 مارچ کو ڈونالڈ ٹرمپ نے ڈرامائی انداز میں 6 اپریل 2026 تک ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر امریکی حملوں کو روکنے کی بات کہی تھی۔ اس وقت امریکی صدر نے دلیل دی کہ یہ فیصلہ ایرانی حکومت کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ تاہم ایران نے صاف طور پر کہا کہ اس نے جنگ بندی کے حوالے سے کسی سے بات نہیں کی ہے۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے سفارتی بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔
تاہم امریکی صدر کے اس اعلان کے باوجود ایران پر اسرائیلی حملے جاری رہے۔ اس کے نتیجے میں ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کر دیا۔ ایران نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ جنگ بندی اور مذاکرات کی آڑ میں تہران کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یادرہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ ایران کو جنگ بندی معاہدہ کرنے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے بدترین کارروائیوں کی دھمکی دی تھی۔ ٹرمپ نے 30 مارچ کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاہدہ نہ کرنے اور 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز نہ کھولنے کی صورت میں ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں اور ڈی سیلی نیشن پلانٹس پر حملے کیے جائیں گے۔ امریکی صدر نے گزشتہ روز بھی ایران کے خلاف نہایت سخت اور جارحانہ مؤقف اپناتے ہوئے پیغام دیا تھا کہ فوری معاہدہ نہ کیا گیا تو سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔



