ہومInternationalایران، اسرائیل اور امریکہ کی جنگ نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں...

ایران، اسرائیل اور امریکہ کی جنگ نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہونے کا امکان

تہران/واشنگٹن، 08 مارچ (یواین آئی) ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جاری جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو جنگ ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات فوجی میدان کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت اور توانائی کے نظام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔رپورٹوں کے مطابق بعض مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کا دوسرا مرحلہ پہلے مرحلے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتا ہے۔ مرکز برائے اسٹریٹجک و بین الاقوامی مطالعات (سی ایس آئی ایس) کے محققین کے مطابق آئندہ مرحلے میں میزائل حملوں کے بجائے ڈرون حملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ڈرون نسبتاً کم لاگت کے حامل ہوتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورت حال میں طویل عرصے تک جاری رہنے والے باہمی حملوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے جس سے توانائی کے مراکز، ہوائی اڈے اور بندرگاہیں جیسے اہم انفراسٹرکچر شدید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر مزید ممالک اس تنازع میں شامل ہوئے تو جنگ کا جغرافیائی دائرہ وسیع ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس کے بعد کہ ترکی اور آذربائیجان نے ایرانی ڈرونز کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی پر احتجاج کیا ہے۔ماہرین کے مطابق امکان ہے کہ ایران وقت گزرنے کے ساتھ بیلسٹک میزائلوں کے استعمال میں کمی کرے گا کیونکہ حالیہ فضائی حملوں میں اس کے درجنوں میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اس کے برعکس کم لاگت والے خودکش ڈرونز کے استعمال میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ان کے مطابق اس حکمت عملی کی وجہ یہ ہے کہ ڈرونز کی تیاری نسبتاً سستی ہوتی ہے اور انہیں مختلف مقامات سے باآسانی لانچ کیا جا سکتا ہے۔کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ تہران مستقبل میں ایک بڑے حملے کے بجائے وقفے وقفے سے چھوٹے حملوں کی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے، جس کے تحت ایک وقت میں 20 سے 40 ڈرونز داغے جا سکتے ہیں اور یہ عمل ہفتے میں کئی مرتبہ دہرایا جا سکتا ہے۔عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق جنگوں میں ڈرون حملوں کا مقصد اکثر مخالف کے دفاعی نظام کو دباؤ میں لانا، ریڈار کے کمزور مقامات کا پتا لگانا اور اسے مسلسل دفاعی کارروائیوں میں مصروف رکھنا ہوتا ہے۔امریکی تحقیقی ادارے رینڈ کارپوریشن کے تجزیوں میں بھی اس طرح کی حکمت عملی کا ذکر کیا گیا ہے۔دوسری جانب امریکی تھنک ٹینک سی ایس آئی ایس کے ابتدائی اندازوں کے مطابق ایران اب تک تقریباً 2700 میزائل اور ڈرون داغ چکا ہے، جس پر اسے اربوں ڈالر کی لاگت برداشت کرنا پڑی۔ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے باعث امریکہ کو بھی بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق صرف پہلے ہفتے میں جنگی کارروائیوں پر تقریباً 6 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق توقع ہے کہ امریکی انتظامیہ جنگ جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے مزید فنڈز کی منظوری طلب کرے گی۔یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک تہران غیر مشروط طور پر ہتھیار نہ ڈال دے۔دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس شدید جنگ میں چھ ماہ تک مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات