Thursday, February 19, 2026
ہومInternationalامریکہ رواں ہفتے کے آخر تک ایران پر حملہ کرسکتا ہے

امریکہ رواں ہفتے کے آخر تک ایران پر حملہ کرسکتا ہے

امریکی میڈیا کا دعویٰ:ایران نے صاف کردیا؛دھمکیوں کے سا ئے میں مذاکرات ممکن نہیں

واشنگٹن، 19 فروری (یو این آئی) امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج اس ہفتے کے آخر تک ایران پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے اس معاملے پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔امریکی میڈیا سی بی ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق اعلیٰ حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ہفتے تک ایران پر حملے کے لیے تیار ہیں، تاہم صدر ٹرمپ نے اس معاملے پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔امریکی حکام نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس میں اس وقت مسلسل مشاورت جاری ہے، جہاں ممکنہ حملے سے منسلک خطرات، ایران کے ردعمل اور سیاسی و عسکری نتائج پر غور کیا جا رہا ہے۔پینٹاگون کے ترجمان نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ ایران پر حملے کے کئی جواز موجود ہیں، لیکن صدر کی ترجیح ہمیشہ سفارت کاری رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ اور تعاون کرے، تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے۔امریکی حکام کے مطابق خطے میں جنگی طیاروں، ریفیولنگ ٹینکرز، اور دو ایئرکرافٹ کیریئر گروپس سمیت بڑی فوجی طاقت تعینات کی جا چکی ہے، جس کے بعد امریکہ کے پاس ایران کے خلاف فوری فوجی کارروائی کا آپشن موجود ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فوجی تیاری کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل سسٹم اور لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنانا ہو سکتا ہے، تاہم تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔دوسری جانب سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، جنیوا میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی، لیکن دونوں ممالک کے درمیان بڑے اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔امریکہ مسلسل ایران سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ یورینیم افزودگی مکمل طور پر بند کرے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات نہیں کرے گا۔ادھر اسرائیل بھی ممکنہ جنگی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے، اور وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ایران کے خلاف سخت کارروائی کے حامی ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر ایک بار پھر حملہ ہوتا ہے تو خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ بھڑک سکتی ہے اور ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل پر شدید میزائل حملوں کا خدشہ ہے۔یاد رہے کہ 2025 میں بھی امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے، جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی تھی۔
ایران اپنے حساس مقامات کی حفاظت کیسے کر رہا ہے ایران اپنے حساس فوجی اور ایٹمی مقامات کی حفاظت کیسے کر رہا ہے سیٹلائٹ تصاویر نے اس کی جھلک پیش کر دی ہے۔اسرائیل سے حالیہ جنگ اور امریکہ سے شدید تناؤ کے بعد امریکی حکام ایران پر کسی بھی وقت حملے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ اس صورتحال میں تہران نے اپنے فوجی اور ایٹمی حساس مقامات کی حفاظت کے لیے کیا فول پروف انتظامات کیے ہیں۔ اس کی ایک جھلک سیٹلائٹ سے حاصل تصاویر نے دکھا دی ہیں۔روئٹرز کے مطابق ماہرین اور تحقیقی مراکز نے سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر سے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایران نے حالیہ عرصے کے دوران اپنے حساس فوجی اور ایٹمی مقامات کی قلعہ بندی کی ہے۔
اس عمل میں کنکریٹ کے ڈھانچے کی تعمیر، سرنگوں کے داخلی راستوں کو چھپانا اور سابقہ بمباری کا نشانہ بننے والے میزائل اڈوں کی تعمیرِ نو شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی اور واشنگٹن کی جانب سے تہران کے ساتھ ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کی کوششوں کے درمیان کیے جا رہے ہیں۔ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں امریکہ کی جانب سے فوجی کارروائی کا اشارہ بھی دیا گیا ہے۔تصاویر سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ ایک حساس فوجی مقام پر نئی تنصیب کے اوپر کنکریٹ کی ڈھال بنائی گئی ہے جسے بعد میں مٹی سے ڈھانپ دیا گیا۔اس کے علاوہ ایک ایٹمی مقام پر سرنگوں کے راستوں کو مٹی تلے دبایا گیا ہے جس پر گزشتہ سال اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران امریکا نے بمباری کی تھی۔
ایک اور مقام کے قریب سرنگوں کے راستوں کو مضبوط بنایا گیا ہے اور تنازع کے دوران نشانہ بننے والے میزائل اڈوں کی مرمت کی گئی ہے۔جن حساس فوجی اور ایٹمی مقامات کی قلعہ بندی کی گئی ہے، اس کی فہرست دی جا رہی ہے۔1۔ ارچین فوجی کمپلیکس پارچین کمپلیکس تہران سے تقریباً 30 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور اسے ایران کے حساس ترین فوجی مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔2۔ اصفہان کمپلیکس کی سرنگوں کے راستے-اصفہان کمپلیکس ایران میں یورینیم کی افزودگی کی ان تین تنصیبات میں سے ایک ہے جن پر جون میں امریکہ نے بمباری کی تھی۔ اس کمپلیکس میں ایٹمی ایندھن کے سائیکل کی تنصیبات کے علاوہ ایک زیرِ زمین علاقہ بھی ہے جہاں سفارت کاروں کے مطابق ایران کا زیادہ تر افزودہ یورینیم ذخیرہ ہے۔3۔ شیراز جنوبی میزائل اڈہ-اسرائیلی “ایلما” ریسرچ سینٹر کے مطابق یہ اڈہ شیراز سے 10 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور ان 25 اہم اڈوں میں سے ایک ہے جو درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گزشتہ سال کی جنگ کے دوران اس مقام کی سطحِ زمین پر معمولی نقصان پہنچا تھا۔4۔ قم میزائل اڈہ-مرکز “ایلما” کے مطابق یہ اڈہ قُم شہر سے تقریباً 40 کلومیٹر شمال میں واقع ہے اور اسے درمیانے درجے کا نقصان پہنچا تھا۔5۔ نطنز کے قریب سرنگوں کی قلعہ بندی-یہ بھی ایران کا اہم فوجی مقام ہے، جس کے گرد قلعہ بندی کی گئی ہے۔
اسرائیل بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ
امریکہ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کے خدشات کے پیش نظر اسرائیل بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق ملک کے تمام دفاعی اور ہنگامی امداد کے اداروں کو کسی بھی غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔اسرائیلی حکام نے تل ابیب سمیت ملک کے مختلف حصوں میں شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بنکرز اور محفوظ پناہ گاہوں کے قریب رہیں۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جوابی کارروائی کے طور پر ایران اسرائیل پر میزائل داغ سکتا ہے، جس کے لیے شہریوں کو الرٹ رہنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔کشیدہ صورتحال کے پیش نظر اسرائیلی وزیر اعظم نے سیکیورٹی سے متعلق متعدد اعلیٰ سطح کے ہنگامی اجلاس طلب کیے۔ ان اجلاسوں میں ملک کی دفاعی حکمت عملی اور ممکنہ ایرانی حملے کی صورت میں جوابی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ملک ہر ممکنہ چیلنج اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی فضائی خطرے کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات