ماسکو، 10 جنوری (یو این آئی) یوکرین جنگ کے تناظر میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک بار پھر اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یوکرین پر اوریشنک ہائپرسونک میزائل داغ دیئے ہیں۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس اقدام کا مقصد یوکرین کو دباؤ میں لانے کے ساتھ ساتھ یورپ اور امریکہ کو واضح پیغام دینا ہے کہ روس کو عسکری صلاحیتوں کے حوالے سے سنجیدگی سے لیا جائے۔روسی صدر پوتن کی جانب سے اوریشنک ہائپرسونک میزائل کا حالیہ استعمال یوکرین اور مغربی ممالک کے لیے ایک وارننگ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ روس نے اس میزائل کو پہلی بار نومبر 2024 میں یوکرین کے خلاف استعمال کیا تھا، جس کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب یہ میزائل استعمال کئے گئے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ میزائل داغنا دراصل امریکہ اور یورپی ممالک کو روسی فوجی طاقت کا پیغام دینا ہے۔روس یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ روس کے فوجی اثاثوں کو سنجیدگی سے لیا جائے اور یورپ و امریکہ مذاکرات میں روس کے مؤقف کا احترام کریں۔واضح رہے کہ اوریشنک میزائل جوہری اور روایتی دونوں طرح کے وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم حالیہ حملے میں جوہری ہتھیار کو استعمال نہیں کیا گیا۔
روسی صدر کا یوکرین پر جدید ہتھیاروں کا استعمال، مغرب کو خبردار کردیا
مقالات ذات صلة



