اسرائیل نے 37 امدادی اداروں پر پابندی لگادی
اسرائیل نے 2025 میں 8 خواتین 42 فلسطینی صحافیوں کو گرفتار کیا
تل ابیب، 2 جنوری (یو این آئی) اسرائیل نےغزہ میں ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز اور آکسفیم جیسے بڑے اداروں سمیت 37 امدادی اداروں پر پابندی لگا دی۔اسرائیلی حکام نے امدادی اداروں پر ان کے فلسطینی عملے سے متعلق معلومات فراہم نہ کرنے کا الزام لگادیا اور کہا کہ جو تنظیمیں سکیورٹی اور شفافیت کے معیار پر پورا نہیں اتریں گی، ان کے لائسنس معطل کر دیے جائیں گے۔اسرائیل کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی حکومت کے اقدام کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے دیا جبکہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے سے علاقے میں انسانی بحران مزید بڑھ سکتا ہے۔یاد رہےکہ 2 روز قبل کینیڈا، برطانیہ، فرانس سمیت 10 ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے امداد فراہمی میں حائل رکاوٹیں ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ان ممالک نے مشترکا بیان میں کہا تھا کہ غزہ میں 16 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکارہیں، سردی اور بارش سے غزہ میں حالات مزید خراب ہوچکے ہیں اور 13 لاکھ افراد کو فوری پناہ کی ضرورت ہے۔ان ممالک نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ اور یو این آر ڈبلیو اے کو مکمل رسائی دی جائے، رفح سمیت تمام گزرگاہیں کھول کر امداد میں اضافہ کیا جائے۔
جمیعت برائے فلسطینی صحافی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے 2025 میں 42 فلسطینی صحافیوں کو حراست میں لیا، جن میں آٹھ خواتین بھی شامل تھیں، اس طرح فلسطینی صحافیوں کو منظم طور پر نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔دستاویزات اور نگرانی عمل کے مطابق، جمیعت کی آزادی کمیٹی نے 2025 کے دوران مرد و خواتین فلسطینی صحافیوں کی 42 گرفتاریوں کے واقعات ریکارڈ کیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ گرفتاریاں مقبوضہ مغربی کنارے، القدس اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں مختلف جگہوں پر، فوجی چیک پوسٹوں اور گزرگاہوں پر، کوریج کے دوران اور گھروں پر چھاپوں کے وقت ہوئیں۔رپورٹ کے مطابق 2023 اور 2024 کے مقابلے میں گرفتاریوں میں کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسرائیل کی توجہ ‘تعداد، سے ‘معیار، کی طرف منتقل ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی سب سے بااثر صحافیوں پر توجہ مرکوز کرنے، ایک ہی صحافی کی بار بار گرفتاری، بلا الزام یا مقدمے کے انتظامی حراست کے بڑھتے ہوئے استعمال، اور جسمانی و نفسیاتی تشدد کو روک تھام کے طریقہ کار کے طور پر استعمال کرنے سے ظاہر ہوتی ہے۔جمیعت نے یہ بھی کہا کہ کمیٹی نے ایسے واقعات کی دستاویزات تیار کیں جن میں صحافی ، فوجی چھاپوں اور آبادکاروں کے حملوں کی کوریج کے دوران حراست میں لیے گئے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ “اس سے تصدیق ہوتی ہے کہ گرفتاریاں، گواہوں کے میدان کو خالی کرنے اور حقیقت کی ترسیل کو روکنے کا فوری ذریعہ بن چکی ہیں ۔”رپورٹ میں کہا گیا کہ 2025 میں اسرائیل نے فلسطینی خواتین صحافیوں کو گرفتاریوں، تفتیشوں اور ملک بدر کرنے کے ذریعے خاص طور پر نشانہ بنانا شروع کر دیا، اور بعض خواتین کو دوبارہ گرفتار بھی کیا گیا۔رپورٹ میں کمیٹی کی نشاندہی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ خلاف ورزیاں اُن غیر ملکی خواتین صحافیوں کے دستاویزی بیانات سے بھی جڑی ہیں جنہوں نے اسرائیلی اذیت رسانی کا اعتراف کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ”کمیٹی نے زور دیا ہے کہ یہ سنگین خلاف ورزیاں، غیرملکی خواتین صحافیوں کے دستاویزی بیانات سے ہم آہنگ ہیں جو جیلوں میں حبسِ بے جا کا نشانہ بن چکی ہیں، ان جرائم کو سنگین خلاف ورزیوں کی درجہ بندی میں رکھا جا سکتا ہے جو بین الاقوامی جرائم کے برابر ہوں گی۔”فلسطینی صحافیوں کی جمیعت نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ اور اظہارِ رائے کی آزادی کے خصوصی رپورٹرز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں ادا کریں، فوری مداخلت کریں، اور فلسطینی صحافت کے خلاف اسرائیلی رہنماؤں کو ان کے جرائم کی ذمہ داری تک پہنچائیں۔”آخر میں، آزادیوں کی کمیٹی نے اس بات کی دوبارہ تصدیق کی کہ فلسطینی صحافت اپنے پیشہ ورانہ اور قومی کردار کو تمام دباؤ اور گرفتاریوں کے باوجود جاری رکھے گی، اور صحافیوں کو نشانہ بنا کر سچ کو خاموش یا جرائم کو مٹایا نہیں جا سکتا۔”



