واشنگٹن، 18 مارچ (یو این آئی) امریکہ نے اپنے جدید میزائل دفاعی منصوبے گولڈن ڈوم کی لاگت بڑھا کر 185 ارب ڈالرز کر دی ہے، جو پہلے تخمینے سے 10 ارب ڈالرز زیادہ ہے۔اس منصوبے میں بڑے دفاعی اداروں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔امریکی اسپیس فورس کے جنرل مائیکل گیٹلین کے مطابق اس منصوبے کا مقصد زمینی دفاعی نظام کے ساتھ خلاء میں جدید سیٹلائٹ نیٹ ورک، میزائل ٹریکنگ سسٹمز اور ممکنہ طور پر مدار میں ہتھیاروں کی تنصیب کے ذریعے دشمن کے میزائل خطرات کا بروقت سراغ لگانا اور انہیں ناکام بنانا ہے۔اس پروگرام میں خاص طور پر ہائپر سونک اور بیلسٹک میزائلز کو ٹریک کرنے کے لیے جدید اسپیس سینسر سسٹم (HBTSS) اور ڈیٹا نیٹ ورک شامل ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ مکمل دفاعی نظام آئندہ 10 سال میں تیار کیا جائے گا، جبکہ بعض ناقدین کی جانب سے اس منصوبے کی لاگت ایک کھرب ڈالرز تک جانے کے خدشات کو مسترد کر دیا گیا ہے۔امریکی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ اندازے حقیقت پر مبنی نہیں، منصوبے میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو سب سے اہم قرار دیا گیا ہے جبکہ خلاء میں انٹرسیپٹرز کی تعیناتی کو سب سے بڑا چیلنج بتایا جا رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت اور ڈائریکٹڈ انرجی ویپنز کو مستقبل میں اس نظام کو مؤثر اور کم لاگت بنانے کے لیے کلیدی ٹیکنالوجی قرار دیا گیا ہے۔
امریکہ کا گولڈن ڈوم منصوبہ مزید مہنگا، لاگت 185 ارب ڈالرز تک پہنچ گئی
مقالات ذات صلة



