عالمی قوتوں کے درمیان مقابلے کے نئے دور میں چین کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں تیزی
واشنگٹن 17 فروری (ایجنسی) خفیہ جوہری تنصیبات کی جدید سیٹلائٹ تصاویر سے بیجنگ کے اپنے اسلحہ خانے کو وسعت دینے کی کوششوں کا پتہ چلتا ہے، یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے آخری عالمی ضمانتیں بھی ختم ہو رہی ہیں۔ جنوب مغربی چین کی سرسبز اور دھند چھائی وادیوں میں سیٹلائٹ تصاویر ملک کی جوہری تیاریوں کی تیز رفتار پیش رفت کو ظاہر کرتی ہیں، جو کہ عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے کے نئے دور کے لیے ڈیزائن کی گئی ایک قوت ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق صوبہ سچوان کی ایسی ہی ایک وادی ‘زیتونگ،کے نام سے جانی جاتی ہے، جہاں انجینئرز مضبوط گودام اور نئی قلعہ بندیاں تعمیر کرنے میں مصروف ہیں۔ وہاں پائپوں سے لیس ایک نیا کمپلیکس نمایاں ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ تنصیب انتہائی خطرناک مواد سے نمٹ رہی ہے۔ایک اور وادی میں ‘پنگتونگ، نامی تنصیب ہے جو دوہری باڑ میں گھری ہوئی ہے، جہاں ماہرین کا ماننا ہے کہ چین پلوٹونیم سے بھرے جوہری وارہیڈز کے مرکزی حصے تیار کر رہا ہے۔ اس کی مرکزی عمارت، جس کے اوپر 360 فٹ اونچا ہوا دار ستون ہے اسے گذشتہ برسوں میں نئے وینٹی لیشن سوراخوں اور ہیٹ سنک کے ساتھ جدید بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ اضافی تعمیراتی کام بھی جاری ہے۔چین کی یہ عسکری تیاری امریکہ اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کے آخری بچ جانے والے معاہدے کی میعاد ختم ہونے کے بعد اسلحہ سازی پر عالمی کنٹرول کو بحال کرنے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ واشنگٹن کا موقف ہے کہ کسی بھی اگلے معاہدے میں چین کو بھی پابند کیا جانا چاہیے، لیکن بیجنگ نے اس میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے۔جیو اسپیشل ڈیٹا انٹیلی جنس کے ماہر رینی بابیاز جنہوں نے سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ کیا کہتے ہیں کہ ان مقامات پر زمین پر نظر آنے والی تبدیلیاں چین کے عالمی سپر پاور بننے کے وسیع تر اہداف کے مطابق ہیں اور ایٹمی ہتھیار اس کا لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سنہ 2019ء سے ان تمام مقامات پر ترقی کی رفتار تیز ہوئی ہے۔
بیجنگ کی جانب سے امریکی الزامات کی تردید
چینی جوہری توسیع امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا باعث بن رہی ہے۔ اسلحہ کنٹرول اور بین الاقوامی سکیورٹی کے انڈر سیکرٹری آف سٹیٹ تھامس جی ڈی نانو نے اس ماہ کھلے عام چین پر عالمی پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خفیہ ‘جوہری دھماکوں کے تجربات، کرنے کا الزام لگایا۔ بیجنگ نے اس دعوے کو غلط قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔پینٹاگان کے تازہ ترین سالانہ تخمینوں کے مطابق سنہ 2024 کے اختتام تک چین کے پاس 600 سے زیادہ ایٹمی وارہیڈز ہوں گے اور سنہ 2030 تک یہ تعداد 1000 تک پہنچنے کی راہ پر ہے۔ اگرچہ چین کا ذخیرہ اب بھی امریکہ اور روس کے پاس موجود ہزاروں ہتھیاروں کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے، لیکن اس کی نمو تشویشناک ہے۔سابق امریکی عہدیدار میتھیو شارپ کا کہنا ہے کہ حقیقی مکالمے کی عدم موجودگی میں یہ جاننا مشکل ہے کہ معاملات کس طرف جا رہے ہیں اور یہ ایک خطرناک صورتحال ہے کیونکہ اب ہم بدترین تشریحات کی بنیاد پر منصوبہ بندی کرنے پر مجبور ہیں۔



