کیف، 7 فروری (یو این آئی) ریاستی گرڈ آپریٹر نے ہفتے کو کہا ہےکہ روسی افواج کے یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ایک “بڑے حملے” نے پورے ملک میں بجلی کی بندشیں پیدا کر دی ہیں۔اگرچہ دونوں ممالک نے تقریباً چار سالہ جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ کی ثالثی میں بات چیت کی ہے، روس نے حالیہ دنوں میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔یوکرینی حکام نے ماسکو پر الزام لگایا ہے کہ وہ جان بوجھ کر توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے ایسی بندشیں ہوئیں کہ لاکھوں افراد روشنی یا ہیٹنگ سے محروم رہ گئے، جب کہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کافی نیچے ہے۔یوکرین کے وزیرِ اعظم ڈینِس شمیہال نے کہا کہ روس نے مغربی یوکرین میں برشتنسکا اور دوبروتویرسکا پاور پلانٹس پر حملہ کیا، جس کے بعد کیف نے پولینڈ سے ہنگامی امداد طلب کی ہے۔گرڈ آپریٹر یوکرنرگو نے ہفتے کو کہا کہ “روس، یوکرینی پاور گرڈ زپر وسیع پیمانے کے حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔”انہوں نے ٹیلیگرام پر اپنے بیان میں کہا:”دشمن کی طرف سے پہنچنے والے نقصان کے باعث زیادہ تر علاقوں میں ہنگامی طور پر بجلی کی ترسیل بند ہے۔””حملے تاحال جاری ہیں۔ بحالی کے کام سیکورٹی صورتحال کی بحالی کے ساتھ ہی شروع کیے جائیں گے۔”جنوری سے یوکرین اور روس نے ابو ظہبی میں امریکی ثالثی میں دو بار مذاکرات کیے ہیں۔کیف اور ماسکو نے ایک بڑا قیدیوں کا تبادلہ طے کیا ہے لیکن علاقے کے معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، جو مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ماسکو نے الزام لگایا ہے کہ یوکرین نے روسی دارالحکومت میں جمعہ کو ایک اعلیٰ عسکری خفیہ افسر کے خلاف قاتلانہ حملہ کیا ، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئے۔ کیف نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
روسی حملوں نے یوکرین کے گرڈ اسٹیشنوں کو وسیع پیمانے کا نقصان پہنچایا
مقالات ذات صلة



