ہومInternationalایران پر جوہری حملے کی منصوبہ بندی؟

ایران پر جوہری حملے کی منصوبہ بندی؟

اقوام متحدہ کے سفارتکار کے استعفے نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

ایران کے ایٹمی سائنس دان محمد رضا کیا فضائی حملے میں اہلیہ سمیت جاں بحق

نیویارک / جنیوا، 30 مارچ (یواین آئی )اقوام متحدہ سے وابستہ ایک سینئر سفارتکار کے سنسنی خیز دعویٰ نے عالمی سیاست میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ سفارتکار نے الزام لگایا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں “جوہری آپشن” (Nuclear کے استعمال کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جسے انہوں نے انسانیت کے خلاف بدترین جرم قرار دیا ہے۔مذکورہ سفارتکار، جن کا تعلق اقوام متحدہ کے اہم مشن سے ہے، نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری کو خبردار کیا ہے۔ سفارتکار نے کہا کہ انہوں نے ممکنہ جوہری حملے کی منصوبہ بندی اور اس کے تباہ کن اثرات کو دیکھتے ہوئے احتجاجاً اپنی ملازمت چھوڑ دی ہے۔انہوں نے اس منصوبے کو “انسانیت کے خلاف جرم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے کسی بھی اقدام سے کروڑوں جانیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، سفارتکار کے پاس کچھ ایسی معلومات یا دستاویزات تھیں جو اس ہولناک منصوبے کی طرف اشارہ کرتی تھیں۔اس دعویٰ کے سامنے آتے ہی عالمی سطح پر اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے تاحال اقوام متحدہ کے ترجمان نے اس مخصوص دعویٰ پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا، تاہم اندرونی ذرائع کے مطابق اس بیان نے یو این ہیڈ کوارٹرز میں کھلبلی مچا دی ہے۔
ذرائع کے مطابق روس اور چین نے اس خبر پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کو کسی بھی “غیر روایتی مہم جوئی” سے باز رہنے کی تنبیہ کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر اداروں نے اس دعوے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔فوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال آخری حربہ سمجھا جاتا ہے، بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ایران کی گہری زیرِ زمین ایٹمی تنصیبات کو عام بمباری سے تباہ کرنا مشکل ہے، جس کی وجہ سے “ٹیکٹیکل نیوکلیئر ویپنز” کے استعمال کی بحث چھڑی ہوئی ہے۔ اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف جاری کرپشن کیسز اور جنگی ناکامیوں کے دباؤ میں ایسے کسی انتہائی اقدام کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایران کے ایٹمی سائنس دان محمد رضا کیا ایک فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئے، ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اور پاسدارانِ انقلاب کے کئی کمانڈر بھی مارے گئے۔یہ حملہ شمالی ایران کے علاقے کیا شہر کے گاؤں داستاک میں ہوا، جس کی تصدیق ایرانی ٹیلی ویژن نے کی، محمد رضا کیا ایران کے نمایاں نیوکلیئر فزکس اور اٹامک انجینئرنگ کے ماہر تھے، وہ مختلف سرکاری تحقیقی اداروں سے وابستہ رہے اور ایٹمی ٹیکنالوجی کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔اسی دوران تہران میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر عباس کرمی اور اہواز میں بسیج کے کمانڈر سعید زنگنہ کی شہادت کی بھی اطلاع دی گئی۔ بندر عباس پر حملے میں پاسدارانِ انقلاب کی بحری انٹیلی جنس کے سربراہ بہنام رضائی اور بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسیری بھی شہید ہو گئے۔اس سے قبل 28 فروری کو جنگ کے آغاز پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے تھے۔ ان حملوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ سپریم لیڈر علی خامنہ ای، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی شہید کیے گئے تھے۔مزید حملوں میں بسیج فورسز کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی، وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ اور متعدد فوجی افسران بھی شہید ہو چکے ہیں، اسرائیل نے ایران کی نئی قیادت کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، جن میں مجتبیٰ خامنہ ای، پارلیمنٹ اسپیکر باقر قالیباف، میجر جنرل امیر حاتمی، احمد وحیدی اور خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر علی عبداللہی شامل ہیں۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات