تہران، 10 مارچ (یو این آئی) ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات اب ایجنڈے میں شامل نہیں۔امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے تک ایران میزائل حملے جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے خارجہ پالیسی کے مشیر کمال خرازی نے بھی کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ سفارت کاری کی گنجائش ختم ہو چکی ہے اور ایرانی فوج طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔علاوہ ازیں ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا تعین ہم کریں گے، امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو خطے سے ایک لٹر تیل بھی برآمد ہونے نہیں دیں گے۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران کے بارے میں ٹرمپ کی باتیں بےمعنی ہیں، خطے میں سلامتی یا تو سب کے لیے ہو گی یا کسی کے لیے نہیں ہوگی۔ جو ملک اسرائیلی وامریکی سفیروں کو نکالے گا وہ آبنائے ہرمز کو استعمال کر سکتا ہے، ان ممالک کو آج سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی مکمل آزادی ہوگی۔
امریکہ کے ساتھ مذاکرات اب ایجنڈے میں شامل نہیں: ایرانی وزیرِ خارجہ
مقالات ذات صلة



