صرف ایٹمی معاملے تک محدود تھے: ایرانی وزیر خارجہ
تہران 07 فروری (ایجنسی) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سلطنت عمان میں ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکہ کے ساتھ بات چیت کے ماحول کو مثبت قرار دیا ہے۔ فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ عراقچی نے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ انتہائی مثبت ماحول میں ہم نے دلائل کا تبادلہ کیا اور دوسرے فریق کو اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے لیکن ہم میکانزم اور وقت کے بارے میں بعد میں فیصلہ کریں گے۔عراقچی نے کہا کہ مذاکرات کے دوران فریقین نے خیالات اور خدشات کا تبادلہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر یہ راستہ جاری رہا تو ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک اچھا فریم ورک حاصل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات جاری رکھنے کے اصول پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان عدم اعتماد کی دیوار کو گرانے کے سب سے بڑے چیلنج کے بارے میں بات کی۔ عراقچی نے زور دیا کہ واشنگٹن کے ساتھ بات چیت صرف ایٹمی فائل تک محدود تھی۔ ہم امریکہ کے ساتھ ایٹمی مسئلے کے علاوہ کسی دوسرے معاملے پر بات چیت نہیں کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی اور امریکی مذاکرات کار اپنے دارالحکومتوں میں مشاورت کے بعد مذاکرات میں آگے بڑھنے کے طریقوں کا فیصلہ کریں گے۔ عمان میں مذاکرات کے پہلے دور کے بعد ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا آگے بڑھنے کا راستہ ہمارے دارالحکومتوں کے ساتھ ہماری مشاورت پر منحصر ہوگا۔اس سے قبل عراقچی نے اپنے ’’ ایکس ‘‘ اکاؤنٹ پر کہا تھا کہ ایران سفارت کاری کے ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی ہیں اور یادداشت میں وہ سب کچھ ہے جو گزشتہ سال پیش آیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے باہمی احترام پر زور دیا اور کہا ہم نیک نیتی کے ساتھ شامل ہوں گے اور اپنے حقوق پر قائم رہیں گے، باہمی احترام اور مشترکہ مفاد محض الفاظ نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہیں۔ایران کا کہنا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی مندوب اسٹیو وٹکوف مسقط میں صرف ایٹمی مسائل پر بات چیت کریں۔ تہران نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ مذاکرات میں قوت کی پوزیشن سے اور ایک ایسے منصفانہ اور فریقین کے لیے قابل قبول سمجھوتے تک پہنچنے کے مقصد کے ساتھ شرکت کرے گا جو ایٹمی مسئلے پر اس کی عزت و وقار کا تحفظ کرے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے گزشتہ روز جمعرات کو کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اس عمل میں شریک امریکی فریق بھی ذمہ داری، حقیقت پسندی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گا۔



