تہران 14 فروری (ایجنسی)جنیوا میں آئندہ منگل کے روز ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل تہران نے واضح کیا ہے کہ بیلسٹک میزائلوں کا معاملہ بات چیت کا حصہ نہیں ہو گا۔ایرانی دفاعی کونسل کے سکریٹری علی شمخانی نے ہفتے کے روز فارس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ میزائل سسٹم ہماری ریڈ لائن ہے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور اور متناسب جواب دے گا، جبکہ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اسرائیل امریکہ کی براہ راست مدد کے بغیر کوئی قدم اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ایران نے حالیہ دنوں میں متعدد بار یہ موقف اپنایا ہے کہ امریکی وفد کے ساتھ مذاکرات صرف اور صرف جوہری فائل تک محدود رہیں گے اور میزائل پروگرام یا دفاعی صلاحیتیں قومی خود مختاری کا حصہ ہونے کے باعث ناقابلِ گفتگو ہیں۔دوسری جانب امریکی انتظامیہ اکثر یہ اشارہ دیتی رہی ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور خطے میں اس کے حلیف گروہوں کی حمایت پر بحث ضروری ہے۔ اسرائیل نے بھی واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ان دونوں مسائل کو شامل کیا جائے، ورنہ اس کے بغیر کوئی بھی معاہدہ بے سود ہوگا۔تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ وہ فی الحال جوہری مذاکرات پر ہی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے عسکری آپشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر بات چیت کے نتائج نہ نکلے تو حالات بہت خراب ہو سکتے ہیں۔توقع ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی منگل کو جنیوا پہنچیں گے، جہاں وہ امریکی ایلچی اسٹيو وٹکوف اور جیرڈ کوشنر کی سربراہی میں آنے والے وفد سے ملاقات کریں گے۔
میزائل سسٹم ہماری ریڈ لائن ہے: علی شمخانی
مقالات ذات صلة



