ٹرمپ نے کہا یہ دو طرفہ جنگ بندی ہوگی؛ایران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی مکمل آمد و رفت کو یقینی بنائے گا
ایران کی سلامتی کونسل نے ایران کے امن منصوبے کو امریکہ کی جنگ میں فتح قرار دیا
واشنگٹن، 8 اپریل (یو این آئی) امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں ممالک ایک فیصلہ کن امن معاہدے کی طرف کافی حد تک پیش رفت کر چکے ہیں اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر رضامند ہو گئے ہیں امریکی صدر نے یہ اعلان واشنگٹن وقت کے مطابق شام 6 بج کر 32 منٹ پر کیا، جو کہ ان کی مقرر کردہ رات 8 بجے کی ڈیڈ لائن سے پہلے تھا۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران مقررہ وقت کے اندر جنگ بندی پر آمادہ نہ ہوا تو ایرانی تہذیب کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک دو ہفتوں کی جنگ بندی پر متفق ہو گیا ہے۔ اس دوران آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔موصولہ اطلاعات کے مطابق، یہ جنگ بندی پاکستان کی ثالثی سے ممکن ہوئی ہے اور اسرائیل بھی اس پر رضامند ہے۔
یہ اعلان رات گئے ایک ڈرامائی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا، جس نے دونوں ممالک کو ممکنہ بڑے فوجی تصادم کے دہانے سے واپس کھینچ لیا۔واشنگٹن وقت کے مطابق شام 6 بج کر 32 منٹ (بدھ کو صبح 4 بج کر 2 منٹ ہندستانی وقت) پر، ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ جاری سفارتی پیش رفت کے پیش نظر وہ ایران کے خلاف طے شدہ فوجی کارروائیوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کر رہے ہیں۔یہ اقدام ان کی جانب سے مقرر کردہ رات 8 بجے (ہندستانی وقت صبح 5:30) کی ڈیڈ لائن سے کچھ ہی پہلے سامنے آیا۔اس سے قبل واشنگٹن نے خبردار کیا تھا کہ وہ ایران کے توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر حملے کر سکتا ہے۔ایک باضابطہ بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ شہباز شریف اور عاصم منیر کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا گیا، جنہوں نے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ایرانآبنائے ہرمز کو “مکمل، فوری اور محفوظ” طور پر کھولنے پر رضامند ہو۔ٹرمپ نے کہا یہ دو طرفہ جنگ بندی ہوگی،” اور دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے تمام فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن معاہدہ طے کرنے کے قریب ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ واشنگٹن کو تہران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے انہوں نے مذاکرات کے لیے “قابلِ عمل بنیاد” قرار دیا، اور کہا کہ ماضی کے بیشتر اختلافی نکات حل کیے جا چکے ہیں۔یہ اعلان ہفتے کے آغاز میں اپنائے گئے سخت مؤقف سے ایک واضح تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ منگل کی صبح تک ٹرمپ نے تہران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے ایران کی تہذیب کو “مکمل طور پر تباہ کر دینے” کی دھمکی دی تھی، جو صورتحال کی غیر یقینی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔
حکام کے مطابق جنگ بندی اس بات سے مشروط ہے کہ ایران بھی کشیدگی میں کمی کرے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی مکمل آمد و رفت کو یقینی بنائے جس کے لیے تہران آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔کشیدگی سے مذاکرات کی جانب یہ تیز رفتار تبدیلی اس صورتحال کی نازک نوعیت اور خلیجی خطے میں استحکام کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جو عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے بدھ کے روز کہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران کے 10 نکاتی امن منصوبے کو قبول کرنے کے بعد ایران نے امریکہ کے ساتھ جنگ جیتنے کا اعلان کیا ہے ۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے کونسل کے حوالے سے کہا کہ ایران نے ایک بڑی فتح حاصل کی اور امریکہ کو 10 نکاتی منصوبے کو قبول کرنے پر مجبور کیا ۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی دو طرفہ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے ۔ امریکی رہنما نے نوٹ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی حفاظت کی ضمانت دینے پر بھی اتفاق کیا ہے ۔امریکہ نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران پر چھوڑنے پر بھی اتفاق کیا ۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف عدم جارحیت کے اصول کو تسلیم کرتا ہے ، آبنائے ہرمز پر ایران کے مسلسل کنٹرول ، ایران کی یورینیم کی افزودگی ، تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کے خاتمے ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کی تمام قراردادوں کو تسلیم کرتا ہے ، اور ایران کو معاوضے کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مشرق وسطی سے امریکی فوجیوں کے انخلا اور تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے پر اتفاق کرتا ہے ۔



