تہران،02مئی (ہ س)۔ایک اخباری رپورٹ کے مطابق ایران بارودی سرنگوں سے لیس ڈولفنز کو آبنائے ہرمز میں دھماکے کرنے اور اسے کھولنے کے لیے استعمال کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔ یہ آبنائے کئی ہفتوں سے امریکی فوجی ناکہ بندی کی زد میں ہے اور معاشی طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔ اگرچہ امریکہ کے ساتھ عارضی جنگ بندی ابھی قائم ہے لیکن ایران میں سخت گیر عناصر کی بڑھتی ہوئی تعداد کا خیال ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ایرانی تیل کی برآمدات روکنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والا مالی بحران اعلانِ جنگ کے مترادف ہے۔ انہوں نے فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔وال سٹریٹ جرنل کی جانب سے نقل کیے گئے ایرانی حکام کے مطابق کسی بھی ممکنہ فوجی کشیدگی میں ایسے ہتھیاروں کا استعمال شامل ہو سکتا ہے جو پہلے کبھی استعمال نہیں کیے گئے تاکہ خطے میں موجود امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔ ان میں بارودی سرنگوں سے لیس ڈولفنز بھی شامل ہیں۔رپورٹس میں بتایا گیا کہ تہران اس آبی گزرگاہ میں آبدوزیں بھیجنے کا سہارا لے سکتا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب پہلے ہی آبنائے سے گزرنے والی اہم مواصلاتی کیبلز کو کاٹنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ اس سے عالمی سطح پر انٹرنیٹ اور مواصلات میں بڑے پیمانے پر خلل پڑ سکتا ہے اور تناؤ میں مزید شدت آ سکتی ہے۔برلن میں انسٹی ٹیوٹ ’’ ایس ڈبلیو پی ‘‘ کے محقق اور مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر حمید رضا عزیزی نے ’’ وال سٹریٹ جرنل ‘‘ کو بتایا کہ تہران میں اس محاصرے کو تیزی سے جنگ کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ جنگ کی ہی ایک شکل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس لیے ایران میں فیصلہ ساز جلد ہی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ طویل مدتی ناکہ بندی کو برداشت کرنے کے مقابلے میں دوبارہ تنازع کا راستہ اختیار کرنا کم مہنگا ہے۔
ایران کا آبنائے ہرمزمیں بارود سے لیس ڈولفنز استعمال کرنے پر غور
مقالات ذات صلة










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4593725