Friday, January 2, 2026
ہومInternationalآسٹریلیا کے جنگلات میں آگ لگی یا لگائی گئی ؟ اہم حقائق...

آسٹریلیا کے جنگلات میں آگ لگی یا لگائی گئی ؟ اہم حقائق سامنے آگئے

ساؤتھ ویلز، یکم جنوری (یو این آئی) آسٹریلیا کے ساحلی علاقے میں خوفناک آتشزدگی سے درجن سے زائد مکانات جل کر خاکستر ہوئے، سوشل میڈیا پر آگ سے متعلق خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے وسطی ساحلی علاقے میں دسمبر کی شدید گرمی کے دوران لگنے والی جنگلاتی آگ کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد مکانات تباہ ہوگئے۔جس کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے، جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ آگ اسمارٹ میٹرز (ڈیجیٹل بجلی کے میٹرز) یا لیزر ہتھیاروں کے ذریعے لگائی گئی ہے کیونکہ آگ سے مبینہ طور پر قریبی درخت اور پودے محفوظ رہے۔آسٹریلیا کے جنگلوں میں لگنے والی آگ (بش فائرز) ایک عام مگر تباہ کن قدرتی آفت ہے، جو خاص طور پر گرم اور خشک موسم میں شدت اختیار کرتی ہے، جس میں یوکلپٹس کے درخت (جن میں تیل ہوتا ہے) اور ان کی لٹکتی چھال آگ کو تیزی سے پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اور اس آگ سے نہ صرف بڑے پیمانے پر جنگلات اور املاک کو نقصان پہنچتا ہے، بلکہ لاکھوں جانور بھی ہلاک ہو جاتے ہیں جیسا کہ 2019-2020کی آگ نے شدید تباہی مچائی تھی جس کی تحقیقات بھی کی گئیں تھیں۔رپورٹ کے مطابق حالیہ لگنے والی آگ سے متعلق پولیس کی تحقیقات میں اس بات کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی ہو۔ حکام کے مطابق آگ کے دوران بڑی تعداد میں جھاڑیاں جلیں جبکہ گھروں تک پہنچنے والی آگ جھاڑیوں سے اٹھنے والے شعلوں اور چنگاریوں کے باعث پھیلی۔ایک آسٹریلوی صارف کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آگ ایک گھر سے دوسرے گھروں تک جا رہی ہے جبکہ آس پاس کے درخت اور سبزہ زیادہ تر محفوظ ہے۔پوسٹ میں یہ بھی عندیہ دیا گیا کہ اسمارٹ پاور میٹرز یا ڈائریکٹڈ انرجی ویپنز (اعلیٰ توانائی کے لیزر ہتھیار) آگ لگنے کا ذریعہ ہوسکتے ہیں جبکہ حکومت اس تباہی کی وجہ موسمیاتی تبدیلی (کلائمٹ چینج) کو قرار دے رہی ہے۔یہ پوسٹ 400 سے زائد بار شیئر کی گئی، جس میں ایک جلتے ہوئے مکان کی تصویر بھی شامل تھی۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات